خطبات محمود (جلد 8) — Page 523
523 آتا ہے کہ وہ حالت جاتی رہتی ہے۔اور پھر وہ معرفت اور بصیرت پیدا ہو جاتی ہے۔حقیقت میں انسان کی زندگی اور ترقی اور کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مختلف حالتیں اس پر وارد ہوتی رہیں۔ایک وقت روحانی حالت کی ترقی اور درستی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔تو دوسرے وقت وہ حالت نہیں پاتا اور فکر کرتا ہے۔جب وہ روحانی ترقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔تو بعض وقت سمجھتا ہے کہ کھانے پینے کے حوائج ضرور یہ میں جو وقت خرچ ہوتا ہے۔یہ بھی ضائع جاتا ہے۔سارا وقت خدا ہی کے لئے لگانا چاہیئے۔حالا نکہ منشا الہی یہ ہے کہ دوسری طرف بھی لگانا چاہیئے۔اگر وہ ان چیزوں کی طرف خدا کے لئے متوجہ ہوتا ہے تو وہ حالت بھی اس کی روحانی ہی ہو جاتی ہے۔اور سب کچھ خدا کے لئے ہو جاتا ہے۔سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے پر ایک حالت ایسی آتی ہے کہ جب تک خدا تعالی مجھ کو نہیں کہتا کہ اے عبد القادر میری ذات کی قسم ہے کھا میں نہیں کھاتا۔اور نہیں پیتا اور نہیں پہنتا۔۲۰ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں میں ایسے بزرگ کی نسبت یہ خیال نہیں کر سکتا۔اور یہ بھی درست ہے۔جو انہوں نے کہا ہے حقیقت میں یہ سوال و جواب شریعت کا ہے۔ایک مومن قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ ایک مومن کا کھانا پینا او رپہننا سب اللہ ہی کے لئے اور اس کے حکم سے ہے۔اگر اس کا حکم نہ ہوتا تو ایک مومن کبھی نہ کھاتا اور نہ پیتا اور نہ پہنتا پس جب انسان الہی شریعت کے اس طرح پر تابع ہو جاتا ہے اور اپنی مرضی اور خواہش کو درمیان سے نکال کر خدا تعالیٰ کی مرضی اور رضا کو مقدم کر لیتا ہے۔تو اسے اللہ کے حکم کے سوا کسی کام کے کرنے سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر جو کچھ وہ کرتا ہے۔وہ اللہ ہی کے حکم کی تعمیل ارشاد ہوتی ہے۔یہ حالت ہر شخص پر خواہ وہ نبی ہو یا عام آدمی آتی ہے۔پھر ایک اور روحانی قانون جاری ہے کہ قبض اور بسط سے مختلف نتائج پیدا ہوتے ہیں۔یعنی قبض سے قبض اور بسط سے بسط پیدا ہوتا ہے۔کسی نے کہا ہے۔افسرده دل افسرده کند انجمن را ایک شخص جو خود ایک زبردست قبض کی حالت میں مبتلا ہے۔وہ ایک مجلس میں چلا جاوے۔تو اس کی قبض کا اثر دوسروں پر بھی نمایاں ہونے لگتا ہے۔اور وہ افسردہ خاطر ہو جاتے ہیں اور ایک شخص جو بسط کی زبردست حالت میں ہے۔اس کی مجلس میں اگر غم و ہم میں مبتلا شخص بھی چلا جاوے۔تو رفتہ رفتہ اس کی وہ حالت قبض بسط اور انشراح صدر سے تبدیل ہو جائے گی۔اس کے لئے اجتماع تخیل کی ضرورت ہے۔زبردست انسان ایسی حالتیں پیدا کر دیتے