خطبات محمود (جلد 8) — Page 511
511 79 عبودیت ہی حقیقی حریت ہے فرموده ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۴ء بمقام لنڈن) مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا انسانی اعمال اور انسانی حالتوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایسے حالات میں گھرا ہوا ہے۔جن کی موجودگی میں صحیح اور حقیقی طور پر اس کی رائے آزاد رائے نہیں کہلا سکتی۔بلکہ حقیقی آزاد رائے حاصل کرنے کے لئے حقیقی جدوجہد کی ضرورت ہے۔صوفیا کہتے ہیں کہ ہر ایک چیز میں ایک دور پایا جاتا ہے جس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ راستہ بدل کر چکر کھا کر پھر اس جگہ پر آجاتا ہے۔جہاں تک غور کیا جاتا ہے۔انسانی ترقی کا بھی یہی معیار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یولد على فطرة ا کہہ کر یہی بتایا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔فطرۃ اور اسلام کے یہی معنے ہیں کہ وہ خدا کی کامل فرمانبرداری اور سچی خواہشوں کو لے کر پیدا ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔اس سے یہ مطلب ہے کہ گردو پیش کے حالات اس پر اثر ڈالتے ہیں۔پیدائش کے وقت وہ آزاد فطرت لے کر آتا ہے۔پھر ارد گرد کے انسانوں کے خیالات اعمال اور طرح طرح کے حالات رنگ بدل بدل کر اور اس پر اثر ڈال کر اپنے رنگ میں رنگین کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ بلوغت کے زمانہ تک جب اس میں شعور اور رائے پیدا ہوتی ہے۔وہ ہزاروں کڑیوں میں مبتلا اور اسیر ہو جاتا ہے۔چھ مہینے چار سال دس سال تک وہ آزاد نہیں ہوتا بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ کوئی رائے ہی نہیں رکھتا بلکہ رائے کا وقت بلوغت کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔اور جب یہ وقت آتا ہے۔اور اس عمر تک پہنچتا ہے۔تو وہ غلام ہو چکا ہوتا ہے۔وہ کہنے کو تو کہہ دیتا ہے کہ میں آزاد رائے رکھتا ہوں۔لیکن اس نظارہ کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ اس کی کوئی آزاد رائے نہیں ہوتی۔99 فی صدی ایسے لوگ