خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 512

512 ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری رائے آزاد ہے۔ہم میں حریت ہے مگر سچ یہ ہے کہ یہ آزادی رائے یہ حریت لفظوں سے آگے نہیں ہوتی۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص جیل میں ہو۔اور جب اس کو کہا جاوے کہ تو جیل سے باہر نکل آ اور وہ یہ کہے کہ میں جیل سے باہر نہیں آتا اس لئے کہ میری رائے آزاد ہے۔اور اس آزادی رائے کا یہ فیصلہ ہے کہ جیل سے نہ نکلوں۔تو کون عظمند اس کو آزادی رائے کے گا یہ غلامی ہے۔یہ اسیری ہے۔اسی طرح ایک انسان جو حقیقت سے دور ہے۔وہ آزادی رائے کہہ کر حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔آزادی رائے تب ہوگی کہ وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا نہ ہوتا۔وہ زنجیریں جو بچپن سے دوسروں کی رائیں سننے سے اور ان کے اثر سے پیدا ہوئی ہیں۔وہ زنجیریں جو مختلف نظاروں کے دیکھنے اور کانوں کے ذریعہ بہت سی باتیں سننے کا ایک اثر اس کی فہم و فراست پر چھوڑ گئی ہیں۔اور اس وقت سے یہ اثر پیدا ہو رہا ہے۔جب اس نے فہم و ذکا سے حصہ نہ لیا تھا۔لیکن جب اس کو کہا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں غور کرو اور سوچو تو کہہ دیتا ہے کہ میں حریت رائے کا پابند ہوں۔دوسروں کی رائے کا پابند نہیں۔میں دماغی غلامی نہیں کرتا۔حالانکہ وہ ہزارہا زنجیروں میں گرفتار اور پابند ہے۔لیکن اگر وہ سوچنے لگتا ہے۔اور فکر کرتا ہے کہ فی الحقیقت میری رائے ارد گرد کے حالات اور اثرات کا نتیجہ ہے۔مجھے کو خود خالی الذہن ہو کر فکر کرنا چاہیئے۔تو وہ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی طرف آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے صرف ان خیالات یا اعتقادات کو محض اس لئے نہیں مان لینا چاہئے کہ مجھے ورثہ میں ملے ہیں اور یا میرے ہم نشینوں کی صحبت کا اثر ہیں۔تو وہ پھر فطرۃ اسلام پر لوٹتا ہے اور یہی وہ دور ہے۔جس کی طرف صوفیا اشارہ کرتے ہیں۔اور یہ دور روحانی ترقیات میں بھی آتا ہے۔اور اسی دورہ کے بعد انسان ترقی کے مدارج شروع کرتا ہے۔پس اہم سوال یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں۔اور فکر کریں کہ کیا ہم غلامی کی قید اور زنجیروں میں تو مبتلا نہیں۔جو محض انسان کے ان خیالات کا نتیجہ ہیں۔جو ارد گرد کے حالات اور اثر نے پیدا کئے ہیں۔اور اگر ایسا ہے۔تو کیا طریق ہے کہ ہم اس قید سے آزاد ہوں۔بظاہر یہ ایک مشکل سوال ہے۔اور ایسا سوال ہے کہ اس کا حل نظر نہیں آتا۔اور جب تک حل پیدا نہ ہو۔دنیا کی نجات کا حل بھی نہیں ہو سکتا۔میں سچ کہتا ہوں۔لوگ کبھی کسی صحیح عقیدہ پر جمع نہ ہوں گے۔جب تک کہ یہ کڑیاں دور نہ ہوں جب تک اس طوق و سلاسل میں انسان گرفتار ہے۔وہ حقیقی طور پر حریت حاصل نہیں کر سکتا۔