خطبات محمود (جلد 8) — Page 492
492 کرتے ہیں مگر وہ اسے چھوڑ نہیں سکتے۔اس لئے کہ ان کا قومی کریکٹران کو الگ نہیں ہونے دیتا۔وہ کریکٹران کو دوسری جگہ نہیں ملتا۔اور اس لئے باوجود عیسائیت کے عقائد کو غلط تسلیم کرنے کے بھی وہ اس سے الگ نہیں ہوتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی کریکٹر کس قدر زبردست چیز ہے۔بس یاد رکھو کہ یہ ظاہر کی باتیں ایک دیوار ہوتی ہیں۔جن کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔لیکن عقائد اندر کی باتیں ہیں۔اس لئے قومی کریکٹر کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اسے قائم رکھو۔اگر ہم رندی لفاظی سے کام لیں۔اور قومی کریکٹر کی حفاظت نہ کریں۔تو ہماری مثال اس شیر گدوانے والے بہادر کی ہوگی۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ ہمارے ملک کے لوگ اس ملک میں آکر لباس تبدیل کر لیتے ہیں ان کو اگر کہا جائے کہ تم ایمان سے کہو کہ کیا یہ زیادہ آرام دہ اور اچھا ہے؟ تو کہیں گے کہ ہر گز نہیں پھر کیوں پہنتے ہو۔تو یہی جواب ہوتا ہے کہ لوگ ہمارے لباس پر ہنستے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ انسی تمہاری بزدلی کا نتیجہ ہے کہ تم اپنی چیز کی حفاظت نہیں کر سکتے۔اگر تم مضبوطی سے اپنے لباس کو نہ چھوڑتے اور اس ہنسی کی پرواہ نہ کرتے تو تھوڑے دنوں کے بعد بننے والے تمہاری اخلاقی قوت اور قومی محبت کے قائل ہو جاتے مگر تم نے خود اپنے عمل سے بتا دیا کہ تمہارے اندر قومی دل نہیں بلکہ ایک ڈرپوک دل ہے۔یاد رکھو جس قوم کے اندر ایسے افراد نہیں کہ اپنی چیز کی حفاظت کریں۔وہ اپنے ملک مذہب اور عزت کو کیا بچائیں گے؟ وہ غلام ہیں اور غلامی ان میں داخل ہو چکی ہے۔روح آزاد چیز ہے اس پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا جسم پر قبضہ ہو سکتا ہے۔لیکن جس کی روح پر قبضہ ہو۔وہ غلامی کی بدترین مثال ہے۔اور ایسا شخص اپنے جسم کو کیا بچائے گا۔جب تک ہم یہ یقین نہ کرلیں کہ ہم اپنی ذات میں اچھے ہیں۔اور ہمارے اندر خود اعتمادی کی قوت پیدا نہ ہو۔ہم یہ آزاد روح اپنے اندر نہیں رکھ سکتے۔مجھ سے بعض انگریزوں نے پوچھا ہے کہ کیا ہندوستانی حکومت کے قابل ہیں۔تو میں نے ان کو جواب دیا کہ اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ کیا ہندوستانی انگریزوں پر حکومت کے قابل ہیں۔تو میرا جواب یہ ہے کہ نہیں اور اگر یہ مطلب ہے ہے کہ وہ ہندوستانیوں پر حکومت کر سکتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ وہ ہندوستانیوں پر حکومت کی قابلیت رکھتے ہیں۔انگریزوں اور فرانسیسیوں پر بے شک حکومت نہیں کر سکتے۔یہ جواب میں انگریزوں کو دیتا ہوں دوسروں کے سوال پر اس کا اور جواب ہے۔میرا مطلب اس جواب سے یہ ہے کہ جیسے حاکم ہوں ویسی رعایا ہو گی۔قابلیت کا سوال ہو تو ہم میں حکومت کی قابلیت ہے۔اس لئے کہ ہم نے ان لوگوں پر حکومت کرنی ہے۔جو ہم میں