خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 493

سے ہی ہیں۔493 سلف گورنمنٹ کے متعلق میں تو کہتا ہوں کہ غیروں کو آتا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ہر ملک کو اپنے لوگوں پر آپ حکومت کرنی چاہیئے اور وہ کر سکتا ہے لیکن جس بات سے ہم کو اختلاف ہے۔وہ یہ ہے کہ اب ہم میں (ہندوستانیوں) قومی تعصبات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ ہم امن کو نہیں قائم کر سکتے انگریز نہ آئے ہوتے تو میں کہتا ہوں کہ آپس میں لڑتے رہے مگر اپنی حکومت رکھتے لیکن اب حالت بدل گئی ہے۔ہم حکومت کرنے کے عادی نہیں رہے۔اور امن کی زیادہ ضرورت ہے۔حکومت ایک ایسی شے ہے کہ اس کے ساتھ احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اور پھر باہمی تعصبات بھی کم ہو جاتے ہیں۔دیکھو سرحد پر دوسروں کو تو قتل کر دیتے ہیں۔مگر اپنے بھائیوں کو نہیں کریں گے۔مثلاً اگر کوئی لکھنو کا آدمی مل جاوے تو اس کو قتل کرنے میں دلیر ہوں گے۔جانتے ہیں کہ اس کے بھائی بندوں اور رشتہ داروں میں سے کوئی انتقام لینے نہیں آگئے۔مگر اپنے ملکی آدمیوں کے متعلق یہ و ہم ان کو نہیں ہو سکتا۔غرض حکومت کے ساتھ ایک ایسا انما سفیر (ATMOSPHERE) پیدا ہو جاتا ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں۔غرض جب تک قومی کریکٹر قائم نہ ہو کامیابی نہیں ہوتی۔میں نہایت افسوس سے کہتا ہوں کہ ہمارے طالب علم یہاں آکر ایسا نمونہ دکھاتے ہیں کہ ہم یقینا امید نہیں کرتے کہ وہ کوئی نتیجہ پیدا کریں جو اپنے چہرہ اور سر پر اس بات کا بورڈ لگائے ہوتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود بچے نہیں اور جس کا ہر لقمہ اس کی شہادت نہیں دیتا۔وہ کس دیانت داری سے کہہ سکتا ہے کہ مسلمان ہو جاؤ۔یہ محض جوش اور شہوات نہیں۔جو نظر نہیں آتے بلکہ ایک ایسی کھلی چیز ہے۔جو سب کو نظر آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ دجال کے ماتھے پر کافر لکھا ہوا ہو گا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اس کے سائین بورڈ سے فوراً اس کی شناخت ہو جائے گی۔کیا عیسائیوں کے متعلق کوئی دھوکا کھا سکتا ہے۔ان کا قومی لباس ان کو الگ کر دیتا ہے۔ہندوستان میں یہ لوگ جاتے ہیں۔وہاں کی گرمی میں تڑپتے ہیں۔مگر کسی نے دیکھا ہے کہ انہوں نے اپنے قومی لباس کو بدل دیا ہو۔اندر سوتے ہیں تکلیف ہوتی ہے۔مگر اس لباس کو نہیں چھوڑتے کیوں؟ اس لباس کو قومی کریکٹر سمجھتے ہیں۔بہت سے لوگوں سے میں نے بات چیت کی ہے۔وہ کہہ دیتے ہیں۔جیسا دیس ویسا بھیس یعنی جس ملک میں جائیں۔وہاں کا لباس اختیار کر لینا چاہیئے۔مگر یہ اصول ان کے لئے ہی ہے۔یا دوسروں کے لئے بھی۔کیا انگریز دوسرے ممالک میں جا کر اپنا