خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 465

465 ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جن کو ناظر اعلیٰ تجویز کیا گیا ہے ان کے دل میں حضرت مسیح موعود کی محبت بلکہ عشق خاص طور پر پایا جاتا ہے۔اس محبت کی وجہ سے روحانیت کا ایک خاص رنگ ان میں پیدا ہو گیا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں ایسی ٹھوکر سے وہ جو دوسروں کو لگ جاتی ہیں یا لگ سکتی ہیں خدا نے ان کو محفوظ کیا ہوا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اس تعلق کی وجہ سے جو برکات ان پر نازل ہوتی ہیں ان کے باعث جماعت کے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔دوسرے جو لوگ مقرر کئے گئے ہیں وہ بھی اپنی اپنی جگہ کار آمد انسان ہیں۔مولوی سید سرور شاہ صاحب علماء جماعت احمدیہ میں سے بڑے عالم ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں بہت مخلص آدمی ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ ان کے وجود سے بھی فائدہ پہنچے گا۔قاضی امیر حسین صاحب بھی پرانے لوگوں میں سے ہیں۔اور بہت مخلص ہیں۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کو نوجوان ہیں۔جو نظارت کا کام کرتے ہیں لیکن ان میں میں نے یہ خوبی دیکھی ہے۔باوجود اس کے کہ غیر ملک میں رہنے کی وجہ سے انہوں نے ایسے نمونے دیکھے ہیں جن میں حکومت کا رنگ اسلامی نہیں۔ان میں اطاعت کا مادہ پایا جاتا ہے۔اور جب کوئی حکم دیا جائے تو اسے قبول کر لیتے ہیں۔ماسٹر عبد المغنی صاحب کی بھی قدر کرتا ہوں سلسلہ کے کاموں کے تفکرات کی وجہ سے وہ بوڑھے ہو گئے ہیں۔ان کی عمر اتنی نہیں جتنی عمر کے وہ نظر آتے ہیں۔لیکن مالی معاملات میں اعتراضوں اور تنبیہوں کی وجہ سے وہ جوانی میں ہی بوڑھے ہو گئے ہیں۔قاضی عبد اللہ صاحب ایک مخلص شخص کے لڑکے ہیں۔ان کے والد صاحب حضرت مسیح موعود کے پیارے لوگوں میں سے تھے۔وہ خود بھی مخلص ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کا اخلاص ان کے باپ کے اخلاص سے مل کر مفید ثابت ہو گا۔قاضی اکمل صاحب بھی نہایت مخلص لوگوں میں سے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ کام کے لحاظ سے بہتوں سے زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔اور باوجود بیمار رہنے کے زیادہ کام کر سکتے اور جلدی کر سکتے ہیں۔اس لحاظ سے سلسلہ کی بہت سی خدمات کا انہیں ایسا موقع مل جاتا ہے جو اوروں کو حاصل نہیں ہوتا۔اور یہ قابل قدر بات ہے۔مولوی فضل الدین صاحب کو اتنے پرانے نہیں ہیں کہ انہیں حضرت مسیح موعود سے قرب حاصل ہوا ہو مگر میرا تجربہ ہے کہ جب سے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود کے خاندان اور حضرت