خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 427

427 خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے بھیجا تاکہ آپ ان کو دعاؤں کی حقیقت بتلائیں چنانچہ آپ نے آکر جس قدر دعاؤں پر زور دیا۔اور ان کی قبولیت کی طرف توجہ دلائی۔وہ آپ کی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے ظاہر ہے۔آپ نے کھول کھول کر بتا دیا اور اپنے عمل سے دکھا دیا کہ دعا ہی اصل چیز ہے۔اور یہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔پھر آپ نے جہاں مسلمانوں کو دعا تحریض دلائی۔وہاں اور قوموں کو بتلایا کہ تمہاری کتابوں میں کامل دعائیں نہیں ہیں۔یہ خصوصیت قرآن کریم میں ہی پائی جاتی ہے۔اور اسلام نے قبولیت دعا کے جو طریق بتلائے ہیں۔وہ اور کسی مذہب نے نہیں بتلائے۔اب اگر ہم قبولیت دعا کے وہ طریق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتائے ہیں۔نہ استعمال کریں۔تو ہماری مثال اس شخص کی سی ہو گی کہ جو کھیت کے منڈیر پر بیٹھ جائے۔اور سمجھ لے کہ کھیت خود بخود سر سبز ہو جائے گا۔یا ہماری مثال اس شخص کی سی ہوگی۔جو گھر تو بناتا ہے لیکن سردی اور گرمی سے بچنے کے لئے اسے استعمال نہیں کرتا۔اگر ہماری جماعت کے لوگ کامیابی کے ان طریقوں سے کام نہیں لیتے۔جو حضرت مسیح موعود نے فرمائے ہیں۔تو صرف احمدیت میں داخل ہونے سے کیا فائدہ۔حضرت مسیح موعود نے آکر دعا کی حقیقت کو کھول دیا ہے۔ورنہ آپ کی بعثت سے پہلے لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف تھے۔وہ دعائیں کرتے تھے۔لیکن ان کی مثال ایسی تھی۔جیسے ایک بچہ سرکنڈے کے کانے کو یا کسی اور لکڑی کو گھوڑا قرار دے کر ادھر ادھر دوڑتا پھرتا ہے۔جس طرح اس کی حالت قابل مضحکہ اور لائق رحم ہوتی ہے۔اسی طرح ان لوگوں کی حالت تھی جو حضرت مسیح موعود کی بعثت سے قبل دعائیں کرتے تھے لیکن دعاؤں کی حقیقت سے ناواقف تھے۔بے شک وہ اس بچے کی طرح جو کانے کو گھوڑا سمجھ کر پھولا نہیں سماتا۔اپنی دعاؤں پر پھولے نہ سماتے تھے۔حالانکہ ان کی دعائیں اس کانے کے گھوڑے سے زیادہ وقعت نہ رکھتی تھیں۔لیکن وہ دعائیں جو حضرت مسیح موعود نے سکھائی ہیں۔اور وہ طریقے جو آپ نے بتائے ہیں وہ اس عربی النسل گھوڑے کی طرح ہیں۔جو خوب تیزی سے دوڑتا اور جلدی منزل مقصود پر پہنچا دیتا ہے۔پس یہ نہ سمجھو کہ پہلے ہم جس طرح دعائیں کرتے تھے۔اسی طرح اب بھی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے آکر کیا کیا۔آپ نے دعا کی حقیقت کو کھول دیا۔اور اس کی قبولیت کو دکھا دیا۔پس اب وہی دعا قابل قبول اور ذریعہ کامیابی ہے جو حضرت مسیح موعود کی بیان کردہ حقیقت اور آپ کے فرمودہ طریقوں کے مطابق کی جائے۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ سورۃ فاتحہ کے مضمون کی طرف