خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 394

394 حالت لیکن آج کل کے مسلمانوں کو دیکھو۔یہ وہ ہیں جو مقرر شدہ نمازوں کی بجائے بھی کوئی ایسی نماز تلاش کرتے ہیں۔جو قضاء عمری کہلائے اور جسے ایک دفعہ پڑھ کر مرتے دم تک کے لئے تمام نمازوں سے فارغ ہو جائیں۔اسی طرح ایسے روزے مل جائیں۔جو ساری عمر کے روزوں کی کفایت کریں۔ان کی ہمتیں دیکھو اور ان کی دیکھو۔صحابہ وہ تھے کہ انہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں اور بہت تھوڑے ہوتے ہوئے کسری کی ہزاروں سال کی حکومت اور شان و شوکت کو پاش پاش کر دیا۔کسری ان کے سامنے مٹی کے ایک ایسے کھلونے کی طرح تھا۔جسے ذرا ٹھیس لگے اور ٹوٹ جائے انہوں نے اس کی زبر دست اور دیرینہ حکومت کو اس طرح اڑا دیا جس طرح دھنی ہوئی روئی اڑائی جاتی ہے اور مسلمان اژدھے بن کر اس کی حکومت کو نگل گئے اس بلند حوصلہ ثابت قدم جماعت کوشش کرنے والی قوم اور نہ تھکنے والی طاقت کا مقابلہ جب حضرت عمر کے وقت کسری کی کثیر التعداد فوجوں سے ہوا تو کسریٰ کے لئے باوجود ہر طرح کے سازو سامان اور وسیع حکومت کے کوئی امن کی جگہ نہ رہی۔اس کے اپنے غلام اور نوکر غدار اور بے وفا نکلے۔اس کی سپاہ مقابلہ پر نہ ٹھہر سکی ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ حکومت کسریٰ کا مقابلہ اس جماعت سے ہوا۔جو کبھی نہ تھکنے والی بلکہ زیادہ مشکلات میں زیادہ کام کرنے والی تھی جو ترقی کا یہ گر سمجھ چکی تھی کہ مسلسل محنت اور کوشش اس کے لئے ضروری ہے لیکن آج کل کے مسلمان جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ان کی حالت دیکھو۔اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں ہر جگہ ذلیل اور رسوا ہیں۔نہ عزت باقی ہے نہ شوکت کیوں؟ اس لئے کہ یہ تعویذوں اور ٹونوں سے جیتنا چاہتے ہیں۔یہ چاہتے ہیں کہ سوتے رہیں اور لیلتہ القدر کی برکات سے حصہ مل جائے۔یہ چاہتے ہیں کہ بغیر کوشش اور جدوجہد کے انعامات حاصل کر لیں۔جو بالکل عبث اور بیہودہ خیال ہے۔اگر مسلمان کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔تو انہیں کام کرنے سے جی چرانا چھوڑ کر کام کرنا پڑے گا۔ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھے رہنے کی بجائے کوشش کرنی پڑے گی اور جب کوشش کریں گے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض کو پورا کریں گے تب جا کر کامیاب ہوں گے۔خدا تعالی انسان کی ائش کی غرض یہ بتاتا ہے : و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذرایت ۵۷) انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ عبد بن جائے اور عبد اس وقت تک نہیں بن سکتا۔جب تک غلاموں کی طرح کام نہ کرے۔کیا غلام بھی کبھی آرام کرتا ہے۔ہر گز نہیں۔بلکہ وہ رات دن کام کرتا ہے اور کام کی وجہ سے ہی آقا اس کو پسند کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کا عبد بھی وہی بن سکتا ہے۔جو اس کی کوشش اور سعی کرتا ہے اپنے آرام و آسائش کو ترک کر دیتا ہے۔اور ہر وقت خدا تعالیٰ کو پانے کی۔