خطبات محمود (جلد 8) — Page 386
386 بعینہ اسی طرح ہے جیسے حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ع آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ان کی آنکھوں کے آگے حجاب پڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود کا کام ہی یہ بتایا گیا تھا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرے گا۔اگر حضرت صاحب یہ کشف نہ بتلاتے تو یہی علماء کہنے لگ جاتے۔کہ یہ مسیح موعود کیسا ہے جو اس کی بعثت کی غرض بتائی گئی تھی۔وہ اس نے پوری نہیں کی۔یعنی شرک کا ابطال نہیں کیا۔پس اس کشف نے حضرت مسیح موعود کی تصدیق کی ہے نہ کہ آپ کو نعوذ باللہ من ذالک مشرک ٹھہرایا ہے کیونکہ آپ نے روحانی زمین و آسمان کو قائم کیا اور عیسائیت کو مٹایا ہے۔آپ نے بڑے بڑے پادریوں کو ہر قسم کے مقابلے کے لئے بلایا۔لیکن وہ نہ آئے۔آپ نے ایسے دلائل اور براہین جمع کر دیے کے جن کے مقابلہ پر عیسائیت نہیں ٹھر سکتی۔پس عقلاً ثابت ہو گیا کہ حضرت صاحب کی بعثت کی غرض پوری ہو گئی۔باقی رہا عملاً تو یہ ضروری نہیں کہ وہ فوراً ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث ہوئے ۱۳۰۰ سال ہو گئے کیا دین اسلام تمام دنیا میں پھیل گیا۔اور تمام دنیا مسلمان ہو گئی۔پھر یہ لوگ کیا حق رکھتے ہیں کہ کہیں مرزا صاحب کو کیوں نہیں تمام دنیا نے قبول کر لیا اور کیوں نہیں ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔میں کہتا ہوں کہ تم ان نشانات کو دیکھو۔جو آہستہ آہستہ پورے ہو رہے ہیں۔اور لاکھوں کو سلسلہ کی طرف لا رہے ہیں اور ہزاروں عیسائی حضرت مسیح موعود کے سلسلہ کی طرف آرہے ہیں۔معترضین کے قلوب ان اثرات کو دیکھ کر انکار نہیں کر سکتے اور وہ عنقریب دیکھیں گے کہ مسیح موعود نے آکر نئے سرے سے زمین و آسمان پیدا کیا اور وہ عظیم الشان پیش گوئی آپ کی بعثت سے پوری ہوئی۔جو قرآن نے آخری زمانہ کے متعلق بتائی تھی۔خدا اس پیش گوئی کو پورا کرے گا اور دنیا پر آپ کی صداقت ثابت کر دے گا۔چاہے مخالفوں کی دعائیں کرتے کرتے ناکیں گھس جائیں۔مشکوہ کتاب العلم باب فی فضيلته الفصل الثالث ۲۰ تذکره ۱۸۹ الفضل ۶ مئی ۱۹۲۴ء)