خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 387

387 63 فرموده ۲ مئی (41917 حقیقی لیلتہ القدر مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے سورہ قدر پڑھ کر فرمایا : الفضل میں ایک نوٹ شائع ہوا تھا۔اور وہ نوٹ کتاب سیرۃ المہدی کی اس روایت کی بناء پر تھا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبانی بتایا گیا تھا۔”جب رمضان کی ۲۷ تاریخ اور جمعہ مل جائیں۔تو وہ رات یقیناً لیلتہ القدر کی رات ہوتی ہے۔" اس روایت کو دیکھ کر ہماری جماعت کے تمام طبقات کے لوگوں میں یہ جوش پیدا ہو گیا کہ اب کے ہماری خوش قسمتی سے رمضان کی ۲۷ جمعہ کا دن ہے۔اس لئے یقیناً شب قدر ہو گی۔اس خیال کو اپنے دل میں پختہ کرتے ہوئے ہماری جماعت کے لوگوں میں ایک غیر معمولی جوش پیدا ہو گیا۔اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ ایک دعاؤں کے لئے نایاب اور بیش بہا موقعہ ہے اور یہی وہ رات ہے۔جس میں روحانی برکات کا نزول ہوتا ہے۔اور دعاؤں کی قبولیت ہوتی ہے۔چنانچہ یہ جوش اور برکات کے حاصل کرنے کی تڑپ اور اس کے لئے بے چینی اس دن یہاں تک بڑھ گئی کہ بہت سے لوگوں نے مجھ کو دعا کے لئے لکھا۔اور دعا کی درخواستیں اس قدر میرے پاس جمع ہو گئیں کہ جب میں دعا کے لئے اٹھا۔۴۵ منٹ میں میں صرف ان درخواست کنندگان کے نام پڑھ سکا اور اگر میں کہیں ان درخواستوں کے مضمون کی طرف توجہ کرتا۔تو نہ معلوم کتنا وقت صرف ہوتا اور کب میں فارغ ہو تا باوجود ان درخواست کنندگان کی کثرت کے اور اس روایت کے راوی کے ثقہ ہونے کے میں ان علوم کی بناء پر جو روحانیت سے تعلق رکھتے ہیں۔اور جن کے اتار چڑھاؤ اکثر دنیا میں ہوتے رہتے ہیں اور جو ایسے پیچیدہ اور مغلق ہوتے ہیں کہ عام فہم لوگ ان کو آسانی سے حل نہیں کر سکتے۔میں ان کی پیچیدگیوں اور ان کے مغلق ہونے کو مد نظر رکھتے ہوئے اور روایت کے بیان کرنے اور راوی کے کوئی بات سمجھنے کی