خطبات محمود (جلد 8) — Page 358
358 ہوئیں۔سچ اور جھوٹ میں یہ فرق ہوتا ہے کو صداقت سچ کے ساتھ پھیلتی ہے اور جھوٹ جھوٹ کے ساتھ باطل پرست قومیں ہی جھوٹ کی محتاج ہوتی ہیں۔دیکھو ہماری ہر جگہ مخالفت ہوتی ہے۔مگر ہم علی الاعلان تبلیغ کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ ان کے اندر خفیہ داخل ہو جائیں اور ان کے ہی عقائد ظاہر کریں۔اور جھوٹ بول کر اپنے مذہب کی اشاعت کریں۔ہم اسلام کے پابند ہیں۔اور آنحضرت صلعم کا قاعدہ تھا کہ رات کو حملہ نہیں کرتے تھے بلکہ صبح کی نماز کے بعد حملہ کرتے تھے۔اسی طرح ہم بھی اپنے دشمن پر دن کو حملہ کرتے ہیں۔اور لڑتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اے سجادہ نشینو! علماء پنڈ تو! پادریو! آؤ مقابلہ کر لو ہم تمہارے گھر پر حملہ کرنے لگے ہیں۔مگر یہ لوگ چور کی طرح قیام امن کی کوشش کرنے کے بہانے شبخون اور ڈاکہ مارتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں مقابلہ کی طاقت نہیں۔علی الاعلان سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے یہ وہ فرق ہے۔جو سچ کو جھوٹ سے بالکل ممتاز کر دیتا ہے۔مگر بہت کم ہیں جو اس بات کو سمجھتے ہیں۔تاہم وہ دن آئیں گے کہ جن لوگوں نے اسلام کو تنگ اور تاریک خیالات کا مجموعہ سمجھ رکھا ہے۔ان کی غلطی ان پر واضح ہو جائے گی۔اور قرآن پر تنگ ظرفی کا الزام دینے والوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔قرآن وسیع تعلیم دیتا ہے۔آئندہ دنیا کی ضروریات کو صرف اور صرف قرآن ہی پورا کر سکتا ہے۔باقی سب خیالات تنگ ناؤ کی مانند ہیں۔جو جلد مٹ جائیں گے۔الفضل ۱۵ اپریل ۱۹۲۴ء)