خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 318

318 سے لوگوں کے دل متاثر نہیں ہوتے۔ان زبردست دلائل میں سے جو حضرت صاحب کے لئے ہم پیش کیا کرتے ہیں ایک میں یہاں پیش کرتا ہوں۔یہ دلیل اپنے اندر اتنی شقیں رکھتی ہے کہ ان کو بہت سے لوگ جانتے بھی نہیں سمجھنا تو بڑی بات ہے اور اسی لئے ان کی بات کا دوسروں پر اثر نہیں ہوتا۔یاد رکھنا چاہئے کے جتنے دلائل ہوتے ہیں وہ اور دلائل سے مل کر ایک مدعا کو ثابت کیا کرتے ہیں۔جس طرح علم کے درجہ ہوتے ہیں اول جماعت دوم جماعت سوم جماعت و غیره و غیره اسی طرح دلائل کے بھی درجے ہوتے ہیں۔ایک دلیل ایک حصہ کو ثابت کرتی ہے۔دوسری دلیل اس کے ساتھ مل کر اوپر کے حصوں کو ثابت کرتی ہے اگر پہلی جماعت کا طالب علم سمجھے کہ میں لائق ہو گیا۔اور انتہائی ترقی پا گیا۔تو وہ نادان ہو گا۔اسی طرح اگر دلیل کا ایک حصہ پیش کر کے کوئی یہ خیال کرے کہ اس سے میرا مخالف خاموش ہو جائے گا۔تو یہ اس کی نا سمجھی ہوگی کیونکہ دلائل میں یہ بات ہوتی ہے کہ دلیل کا ایک حصہ ایک بات ثابت کیا کرتا ہے۔مثلاً خدا ہے یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے اس پر زمین و آسمان گواہ ہیں لیکن اتنی بڑی دلیل سے بھی صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خدا ہونا چاہیئے۔مگر یہ بات کہ خدا ہے بھی یا نہیں وہ اس سے ثابت نہیں ہوتا۔اس پر حضرت صاحب نے بڑی بحث کی ہے اور فرمایا ہے کہ زمین و آسمان سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خدا ہونا چاہیئے۔لیکن خدا کے ہونے کی قطعی دلیل یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ خدا آپ اپنے آپ کو ہمارے سامنے ظاہر کرے اور کہے کہ میں ہوں۔زمین و آسمان یہ بات پیدا نہیں کرتے ان سے صرف اتنا پتہ لگے گا کہ خدا ہونا چاہیئے۔اور خدا کی ضرورت ہے اور جب تک خدا اپنے آپ کو ہم پر ظاہر نہ کرئے تب تک یہ یقین نہیں ہوتا کہ خدا ہے، زمین و آسمان سے خدا کی طرف توجہ ہوتی ہے اور جب خدا انسان کے دل پر نازل ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ میں ہوں تب یقین ہو جاتا ہے۔اس میں ایک تیسری بات بھی ہے اور وہ یہ کہ جس بات کو کوئی انسان خدا کی بات کہتا ہے وہ اس کی اختراع یا غلطی تو نہیں ہے اور اسے کوئی دھو کہ تو نہیں لگ گیا بعض اوقات یوں ہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے آواز دی ہے۔مگر ہوتا کچھ نہیں صرف کان بجتے ہیں۔میرے ساتھ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے اور کئی آدمیوں کے ساتھ بھی ہوا ہو گا کہ پیچھے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آواز آئی ہے۔مگر جب اس طرف دیکھا جاتا ہے۔تو کوئی آواز دینے والا نہیں ہوتا۔پس اس وقت یہ بھی دیکھنا