خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 30

30 چندہ کی سارے ہندوستان میں تحریک کی گئی۔اور مسلمانوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو اکیلے کروڑ کروڑ روپیہ دے سکتے ہیں۔مگر اس کے باوجود ان کی رقمیں دس بارہ لاکھ سے زیادہ نہ ہو سکیں۔اور اس کا اثر ایسا پڑا کہ اگر خلافت کے لئے چندہ دیتے ہیں تو یہاں کی تحریکوں کو چلانے کے لئے کچھ نہیں رہتا حتی کہ مرکزی خلافت کمیٹی کو فیصلہ کرنا پڑا کہ انگورہ فنڈ سے روپیہ کاٹ کر یہاں کے اخراجات میں لگایا جائے۔اس کے مقابلہ میں ہماری جماعت ہے جو مال اور تعداد کے لحاظ سے یہاں کی سب اقوام سے کم ہے۔حتی کہ صرف پنجاب میں جتنے چوڑ ہے رہتے ہیں ان سے بھی احمدی کم ہیں اور مال کے لحاظ سے بھا بڑے وغیرہ بہت چھوٹی اقوام بلکہ ان قوموں کے بعض افراد کے پاس جتنا مال ہے اتنا ہماری ساری جماعت کے پاس نہیں ہے۔مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ اس جماعت سے جو کام لے رہا ہے۔اس کی طرف دیکھو کہ وہ کیسا عظیم الشان ہے۔ہندوستان میں سات آٹھ کروڑ کے قریب کہتے ہیں کہ مسلمان ہیں پھر مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔ہمارے چندہ کے متعلق یہ سوال نہیں تھا۔مسجد لندن ایک تحریک تھی اور بہت بابرکت اور ضروری تحریک تھی۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اگر لندن میں مسجد نہ بنی تو ہم ہلاک ہو جائیں گے۔اسی طرح برلن میں مسجد کی تحریک ہے۔یہ مفید ہے مگر یہ نہیں کہ اگر نہ بنی تو ہماری جماعت ٹوٹ جائے گی۔مگر مسلمانوں کی تحریک ایسی تھی کہ وہ خود کہتے تھے۔اگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو مسلمان تباہ و برباد ہو جائیں گے۔لیکن باوجود اس کے ان کے لئے چند لاکھ روپیہ جمع کرنا مشکل ہو گیا۔بالمقابل اس کے ہماری جماعت جو ان کا سواں حصہ بھی نہیں بنتی۔ایک لاکھ روپیہ چند دنوں میں مسجد لندن کے لئے دے دیتی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری زندگی اور موت کا سوال ہو تو ہماری مٹھی بھر جماعت دو کروڑ روپیہ بھی جمع کر سکتی ہے۔اور اس سے زائد ہم اس لئے نہ جمع کریں گے کہ اور دینا نہ چاہیں گے بلکہ اس لئے کہ ہمارے پاس کچھ اور ہو گا ہی نہیں۔وہ سوال جو ہمارے لئے زندگی اور موت کا سوال ہوگا۔اس کے لئے روپیہ کی انتہا خواہ کوئی بھی ہو۔اس لئے نہ ہوگی کہ اس سے زیادہ ہم دیتا نہ چاہیں گے بلکہ اس لئے ہوگی کہ ہمارے پاس دینے کے لئے کچھ اور ہو گا ہی نہیں۔باقی صرف جائیں ہوں گی اور جانوں کے دینے سے بھی دریغ نہ ہو گا۔کیا عظمند اور سمجھ دار لوگوں کے لئے یہ بات غورو فکر کے قابل نہیں ہے کہ ایک ایسی قوم جو مدتوں سے مُردہ چلی آتی ہے۔اس کے افراد میں ایسی روح ایسا جوش اور ایسا ولولہ پیدا ہو جائے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے کہ اس نے ایسی حالت پیدا کر دی ہے۔یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔دیکھو بڑے بڑے لوگ اٹھے جنہوں نے لوگوں کی عقلوں اور فہموں پر تصرف حاصل کر لیا۔مگر ان کا تصرف عارضی اور چند دن کا تھا۔مسٹر گاندھی کو کتنا عروج