خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 216

216 ہیں۔اگر یہ امید ان کے دلوں میں ہے تو اس امید کو اپنے دلوں سے نکال دیں۔ہم بیشک ان لوگوں میں احمدیت کی تبلیغ نہیں کرتے جو آریوں کے زیر اثر ہیں اور ان لوگوں میں نہیں کرتے جو ابھی اسلام کے ابتدائی مسائل کے سمجھنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتے۔لیکن ملکانوں کے سوا دوسرے لوگوں میں جو اسلام کو سمجھ سکتے ہیں یا ان راجپوت لوگوں میں جن کو خود مولویوں نے سوالات کرنے پر آمادہ کر دیا ہے ہم اپنی تبلیغ کس طرح بند کر سکتے ہیں۔کیا آریوں کے حملہ کے روکنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم قائم گنج اور فرخ آباد اور دیگر شہروں میں جہاں ملکانے لوگ نہیں ہیں اپنی تبلیغ نہ کریں۔غرض ہم نے کبھی وعدہ نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں کہ ہم احمدیت کی تبلیغ کسی جگہ بھی اور کسی حال میں بھی نہیں کریں گے ہمارا وعدہ مشروط تھا اور صرف یہ تھا کہ ہم اس قوم میں اس غرض کے لئے نہیں جائیں گے احمدیت کی تبلیغ کریں یعنی ابتداء نہیں کریں گے لیکن دوسرے لوگوں کے مجبور کرنے پر بھی ہم چپ رہیں۔یہ ہمارا ارادہ کبھی نہیں ہوا اور یہ وعدہ ہم نے کبھی نہیں کیا۔اگر ایسا کوئی وعدہ اشارہ " اور کنایتہ " بھی کیا ہو تو اس کو پیش کیا جائے۔ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ غیر جانبدار کمیٹی بنائی جائے جو دیکھے کہ کیا غیر احمدی مولویوں نے جاکر ان لوگوں کو ہمارے مبلغین کے متعلق نہیں کہا کہ یہ کافر ہیں۔ان کو اپنے گاؤں سے نکال دو ان کی باتیں سننے سے آریہ ہو جانا بہتر ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے تو کون عظمند ہے جو اپنے اپ کو دنیا کے سامنے عقلمند کی حیثیت سے پیش کرنے اور کہے کہ احمدی مبلغ اس وقت بھی جواب نہ دیتے۔اگر اس وقت جواب نہ دیتے تو وہ منافق اور بے ایمان بنتے۔ہمیں سنایا جاتا ہے اور دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر تم احمدیت کی تبلیغ سے نہ رکے تو یہ کر دیا جائے گا اور وہ کر دیا جائے گا۔مگر ہم کب دنیا سے دبے اور کب ہم نے کسی کی غلامی کی اور کب کسی سے مرعوب ہوئے کہ اب ہو جائیں گے۔ہم تو اس وقت ساری دنیا سے نہ ڈرے جب چند تھے۔خدا تعالیٰ نے ہماری اس وقت کی کمزوری کو دیکھ کر ہماری مدد کی اور لاکھوں انسانوں کو احمدیت میں داخل کر دیا۔ہمیں اپنے فضل اور رحم سے قوت، طاقت، رعب اور شوکت دی۔پھر کیا ہم خدا تعالیٰ کے اتنے احسانوں کے بعد اب ڈر جائیں گے۔ہرگز نہیں۔جو غلامی کا عادی ہوتا ہے۔وہی کسی کی غلامی کر سکتا ہے۔ہم کو خدا تعالیٰ نے اپنے سوا کسی کا غلام نہیں بنایا بلکہ آزاد بنایا ہے۔اور ہم کسی کے غلام نہیں ہو سکتے۔ہم نے جو وعدہ کیا تھا۔اسلام کے نام کی عزت کے لئے کیا تھا۔یونکہ اسلام کا صدمہ ہمارا صدمہ تھا۔اس لئے ہم مسلمان کہلانے والوں کی خبر گیری کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم نے کسی سے ڈر کر کسی کے خوف سے اور کسی کی دھمکی سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ ضرورت وقت کے لئے کیا تھا۔کیونکہ جو قوم اسلام کے موٹے موٹے مسائل کو ہی نہیں سمجھ سکتی تھی اس کے سامنے حیات و وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑنا غلطی تھی۔لیکن جب مولویوں نے ان