خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 213

213 ہونے لگے کہ ایک مومن کافر ہو جائے تو اسلام اس کی ہرگز اجازت نہ دے گا کیونکہ اسلام میں ایمان اور صداقت کا کوئی بدلہ نہیں رکھا گیا۔پس یہ کسی چیز کے لئے قربان نہیں کئے جا سکتے۔قربانیاں ان چیزوں کی ہوتی ہیں جو ایمان سے نیچے ہیں۔مثلاً مال جان عزیز قربان کئے جا سکتے ہیں لیکن اگر کوئی چیز قربان نہیں کی جاسکتی خواہ ایک شخص کی قربانی کے مقابلہ میں کروڑ مسلمان ہوتے ہوں تو وہ ایمان ہے اور یہ ایمان کا جزو ہے کہ انسان اپنے مذہب کو دوسروں تک پہنچائے۔کوئی شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کے مگر یہ کہے کہ میں تبلیغ اسلام چھوڑتا ہوں تو وہ مومن ہی نہیں۔اور یہ ایسی بات ہوگی کہ کوئی کہے میں زندہ رہوں گا مگر کھاؤں کا کچھ نہیں۔جو شخص یہ نیت کرتا ہے کہ میں تبلیغ نہ کروں گا اس کا ایمان اسی وقت نکل جاتا ہے اور وہ اسلام کے دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے۔پس کس طرح ممکن ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی خاطر جن کے متعلق معلوم ہی نہیں کہ کیا فائدہ دیں گے ایسے لوگوں کو ضائع کر دیں جو ساری دنیا کو اس ایمان سے فائدہ پہنچا رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ملا۔اور جس کے متعلق وہ یقین اور وثوق رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے نبی کے ذریعہ ملا اور جو ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کر رہے ہیں۔پس یہ ہرگز ممکن نہیں کہ ہم کہیں کہ ہم احمدیت کی تبلیغ نہیں کریں گے۔ہاں یہ کہنا کہ فلاں علاقہ میں فلاں وقت فلاں فلاں بات نہ کہیں گے یہ ایک حد تک درست ہو سکتا ہے مگر یہ اقرار بھی حالات کے بدلتے ہی نا جائز ہو جائے گا۔مثلاً ایک شخص خدا کا منکر ہو مگر اسے بتایا جائے اگر تم زکوۃ نہ دو گے تو کافر ہو جاؤ گے تو یہ درست نہیں ہو گا۔زکوۃ کے متعلق بتانے والے کو کہیں گے۔ابھی اس کو یہ تعلیم دینے کا وقت نہیں ہے پہلے خدا منواؤ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اقرار کراؤ اور پھر زکوۃ کا حکم سناؤ۔اسی طرح اگر ایک استاد ایم۔اے یا بی اے کی کتابیں بچہ کے آگے رکھے اور اسے کہا جائے کہ پہلے قاعدہ شروع کراؤ مگر وہ کہے کیا میں پڑھانے سے رک جاؤں تو اسے کہیں گے تم اس طرح پڑھانے سے رکتے نہیں بلکہ جو طرز تم نے اب اختیار کر رکھی ہے اس میں پڑھائی کا حرج ہے اور اس طرح تم پڑھاتے نہیں بلکہ پڑھنے سے روکتے ہو پس اگر تم پڑھانا چاہتے ہو تو پہلے قاعدہ پڑھاؤ۔اسی طرح وہ لوگ جن پر آریوں کا اثر ہے اور جو ان کے دعا اور فریب میں آرہے ہیں ان کے متعلق اگر ہم کہیں کہ انہیں ہم اس وقت آریوں کے حملہ سے بچاتے ہیں تو یہ تبلیغ احمدیت سے رکنا نہیں بلکہ تبلیغ کرتا ہے۔لیکن اگر ایسا موقع ہو کہ ان لوگوں کو ہمارے آدمیوں کے متعلق پتا ہو کہ یہ احمدی ہیں اور وہ پوچھیں کہ احمدی کیا ہوتے ہیں۔اس وقت اگر ہم احمدیت کے متعلق نہ جائیں تو یہ تبلیغ سے رکتا ہے کیونکہ جب کوئی احمدیت کے متعلق پوچھتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس میں کی قابلیت ہے اور اس کے سمجھنے کا وقت آگیا ہے۔اس وقت ہمارا فرض ہے کہ اسے