خطبات محمود (جلد 8) — Page 214
214 - سمجھائیں۔یہی وعدہ تھا جو میں نے کیا تھا یعنی یہ کہ ہم ملکانوں میں احمدی تبلیغ کی خاطر نہیں جاتے ان کو آریوں کے حملوں سے بچانے کے لئے جاتے ہیں۔اور ہمارا مقصد اولی یہی ہے کہ آریوں سے ان کو بچائیں اور ہم نے اس وعدہ کو پورا کیا۔ہمارے آدمیوں کو سخت ہدایات تھیں کہ وہ احمدیت کی تبلیغ نہ کریں اور سب زور آریوں کے مقابلہ میں خرچ کریں اور ہمارے مبلغوں نے الا ماشاء اللہ اس حکم کی تعمیل پوری طرح کی اور آریوں کے مقابلہ میں ہر ایک اختلاف کو نظر انداز کئے رکھا۔لیکن افسوس کہ ہمارے ان اعلانات کو ہماری کمزوری پر محمول کیا گیا اور ہماری صلح کی خواہش کو ہماری شکست سمجھا گیا اور ہماری اعانت کو ہماری جاہ طلبی قرار دیا گیا۔جونہی کہ مولوی صاحبان نے دیکھا کہ اس جماعت کی قربانیاں لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور لوگ ان کے کام کے مقابلہ میں ہمارے کام کو حقیر سمجھ رہے ہیں۔ان کے دلوں سے اسلام کی خدمت کا سوال جاتا رہا اور ہمارے مقابلہ کا خیال جاگزین ہو گیا۔اب آریہ ان کو بھول گئے اور ہمارا وجود ان کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا۔مولوی صاحبان کو یا تو جغرافیہ کا کوئی علم نہیں اور مردم شماری کی رپورٹیں اور بعض دیگر ذرائع معلومات سے وہ واقف نہیں یا یہ کہ ان کو ان گاؤں میں جہاں ہمارے احمدی جاتے تھے کوئی خاص کشش معلوم ہوتی تھی۔انہوں نے اپنا یہ وطیرہ اختیار کر لیا کہ ہمارے آدمیوں کے پیچھے پیچھے نکل کھڑے ہوئے اور جہاں ہمارے آدمی پہنچتے وہاں وہ بھی جا پہنچے، بعض جگہ ہمارے ہی آدمیوں کے مہمان ٹھہرے، انہیں کے پاس کھانا کھایا، شربت پیئے۔غریب مسافر احمدی مبلغ نے اپنے ہاتھوں سے کھانے پکا کر ان کے آگے رکھے۔جاتے وقت اگر موقع ملا تو زبانی نہیں تو خط کے ذریعہ سے گاؤں کے لکھیا کو ہوشیار کر گئے کہ قادیانیوں کو ہرگز یہاں ٹھرنے نہ دینا یہ لوگ آریوں سے بد تر ہیں۔آریہ ہو جانا بہتر ہے لیکن ان لوگوں سے تعلق نہیں رکھنا چاہئیے ان باتوں کا اثر بعض جگہ پر یہ ہوا کہ ہمارے مبلغ نکالے گئے ایک جگہ سخت گرمی کے دنوں میں ہمارا ایک مبلغ جو اس علاقہ سے بالکل نا واقف تھا تین دن بلا کھانے کے تپتی دوپہر میں جنگل میں پڑا رہا۔کیونکہ وہ بغیر حکم کے اپنی جگہ کو نہیں چھوڑ سکتا تھا اور مولویوں نے گاؤں والوں کو بھڑکا کر اسے گاؤں سے نکلوا دیا تھا کہ یہ آریوں سے بدتر ہے۔بعض جگہ مولویوں کی باتوں کا الٹا اثر ہوا لوگوں نے اس بات سے انکار کر دیا کہ جانوروں کی طرح مولوی صاحبان کی لاٹھیوں کے آگے ہانکے جائیں۔انہوں نے اپنی عقلیں اور آنکھیں مولوی صاحبان کے سپرد کر دینے سے صاف جواب دے دیا اور ہمارے آدمیوں کے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ آپ لوگوں کو یہ مولوی صاحبان کیوں کافر کہتے ہیں۔آپ میں تو سب باتیں اسلام کی معلوم ہوتی ہیں آپ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں۔اسلام کی خدمت مفت کرتے پھرتے ہیں وہ