خطبات محمود (جلد 8) — Page 208
208 غلطی ہوگی کیونکہ اگر وہ آگ نہیں بجھائے گا تو آخر اس کو بھی نقصان پہنچے گا۔اسی طرح بے دینی بھی متعدی امراض کی طرح ہے۔دیکھو ایک شخص اگر اپنے آپ کو زہر سے بچائے گا تو کل کو اس زہر کے نیچے اس کی اولاد آجائے گی جو اس نے دور نہیں کیا۔اللہ تعالی جو قانون جاری کرتا ہے وہ یکساں تمام مخلوق میں جاری کرتا ہے۔اس کی سنت سب کے لئے یکساں جاری ہوتی ہے۔ان سنتوں میں سے ایک یہ بھی سنت ہے کہ افراد کے حالات اور قوم کے حالات یکساں ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں قوم کے حالات کی مثال افراد کی بتائی گئی ہے۔پس خدا کا قول بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جو قانون افراد میں جاری ہوتا ہے۔وہی قوم میں جاری ہے۔افراد میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو بیماریاں باریک ہیں مثلاً سل، تپ دق۔اس کے پیدا کرنے والے باریک کپڑے ہوتے ہیں وہ کیڑے پاس بیٹھنے والے کے جسم میں چلے جاتے ہیں۔وہ اس قدر باریک ہوتے ہیں کہ جو انسان کو نظر نہیں آتے۔ایک باجرے کے دانے کا کروڑواں حصہ اس کے اندر جاتا ہے جو مضبوط سے مضبوط انسان کو گرا دیتا ہے کہ جس کو ایک پہلوان بھی نہیں گرا سکتا۔اسی طرح انفلوئنزا ہے اس کا بھی اس قدر باریک کیڑا ہوتا ہے کہ انفلوئنزا کے بیمار کی ایک چھینک ا کے ساتھ کروڑوں کیڑے نکلتے ہیں۔وہ بھی انسان پر ایسا قابو پاتا ہے کہ طاقت ور انسان کو بھی گرا دیتا ہے۔اسی طرح موسمی بخار ہوتا ہے جو نتیجہ ہے مچھر کے کاٹنے کا۔اچھا بھلا تندرست آدمی ہوتا ہے جو اس مچھر کے کاٹنے سے اور اس کے زہر سے بیمار ہو جاتا ہے۔تو جتنی بیماریاں ہم دیکھتے ہیں وہ نہایت ہی قلیل مقدار سے پیدا ہوتی ہیں۔جب بیماریوں کے اتنے باریک ذرات مضبوط سے مضبوط انسان کو گرا دیتے ہیں تو اس قوم کا کیا حال ہو گا جس میں چند افراد ایسے موجود ہوں جو غلط کار ہیں، غافل ہیں، احکام الہی کی خلاف ورزی کرنے والے ہیں۔برا نمونہ قائم کرتے ہیں۔ہماری جماعت تو لاکھوں سے زیادہ نہیں۔کروڑوں کی تعداد کی جماعتوں میں اگر ایک آدمی بھی کمزور ہو تو وہ قوم ہلاکت سے محفوظ نہیں۔پھر وہ جماعت جو لاکھوں سے زیادہ نہیں اس کے اندر اگر چند کمزور افراد ہوں تو اس کی تباہی میں کیا شک ہو سکتا ہے۔جب چھوٹے ذرے جو بولتے نہیں وہ ایک مضبوط آدمی کو گرا دیتے ہیں تو وہ قوم جس میں ایک بولنے والا زہر پھیل جائے وہ کس طرح قائم رہ سکتی ہے۔وہ قوم جو ان زہروں کو دور نہیں کرتی وہ کبھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔پس جو قوم زندہ رہنا چاہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے باقی افراد کا بھی خیال کرے۔اگر بولنے والے زہر کا قوم خیال نہیں کرتی تو اس کی دو ہی و جہیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ وہ قوم غافل ہے یا خود کشی کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتی ہے۔اور ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔پس ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے افراد کا