خطبات محمود (جلد 8) — Page 179
179 ہے۔مثال دوسری سب قوموں سے بھی ہوتی۔اب خدا تعالیٰ نے تجربہ کے بعد بتا دیا ہے کہ صلح اس طریق سے ہرگز نہیں ہو سکتی جو اختیار کیا گیا ہے چونکہ ہمیں اب بھی امید ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں کی آنکھیں کھول دے اور وہ صلح کے صحیح طریق پر عمل کریں۔اس لئے ہمارا حق ہے کہ انہیں بتائیں تاکہ ان کے نقصان اٹھانے کا جو اثر ہم پر پڑتا ہے۔اس سے ہم محفوظ رہیں۔آج جس طرح ملازمتوں سے تجارتوں سے اور دوسرے کاروبار سے دوسرے مسلمان محروم کئے جا رہے ہیں۔اسی طرح احمدی بھی الگ کئے جا رہے ہیں۔حکومت کی باگ کلی طور پر ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے جو جس طرح چاہتے ہیں کرتے ہیں۔پس ہمارا حق ہے کہ ہم آواز اٹھائیں تاکہ مسلمان پھر کوئی غلطی نہ کریں اور ان کے ساتھ ہمیں بھی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔بلکہ بعض حالتوں میں تو ہمیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ملکانوں کے ارتداد کا نقصان ہم کو اٹھانا پڑا ہے یا ان کو ؟ ملکانے تھے تو غیر احمدی لیکن چونکہ دین کی خدمت کرنے والے ہم ہی تھے۔اس لئے ہمیں ہی ان کے لئے قربانی کرنی پڑی۔چنانچہ اس وقت سب سے زیادہ علاقہ ہمارے پاس ہے۔سب سے زیادہ ہمارے آدمی کام کر رہے ہیں اور سب سے زیادہ تکالیف ہم اٹھا رہے ہیں۔ریاستوں کا مقابلہ ہم کر رہے ہیں۔جب مصائب اور تکالیف ہم پر بھی آتی ہیں تو کیوں ہم خطرہ کے وقت آواز نہ اٹھائیں۔پس ایک طرف تو میں اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ دیکھو تم لوگوں کو شور و شر کے زمانہ میں عقل سے کام لینے اور میری بات ماننے سے کیا فائدہ ہوا۔اور تم کس طرح خوش ہو کہ تم نے اپنے ضمیر کا خون نہیں کیا۔دوسری طرف میں مسلمانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں سمجھتے۔اب بھی اگر آپ لوگ سمجھیں تو کوئی تمہیں بھولا ہوا نہیں کہے گا۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے قدم کو بھی صدق و صفا پر قائم رکھے اور ان لوگوں کو بھی سمجھ عطا کرے جو گو ہمیں مارتے پیٹتے ہیں مگر ہمارے ساتھ اس نام میں شریک ہیں جو خدا تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کے لئے تجویز فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ ان کو ہما کسبت ایدیکم کی سزا سے محفوظ رکھے۔وہ صحیح رستہ پر چلیں اپنے اور پرائے دوست اور دشمن میں فرق کر سکیں اور اپنے نفسانی جوشوں سے اسلام کو بد نام نہ کریں۔(الفضل ۳۱ ر اگست ۱۹۲۳ء)