خطبات محمود (جلد 8) — Page 145
145 فرعون کو اپنی بڑائی اور سازو سامان پر گھمنڈ تھا۔اور اس کا منشاء تھا کہ خدا بن جاؤں۔ادھر ہمارا منشا یہ تھا کہ وہ لوگ جو فرعون کی نظر میں نہایت ہی ذلیل اور کمزور تھے ان کو حاکم بنا دیں۔پھر کیا ہوا۔یہی کہ جو کمزور اور ضعیف تھے وہ غالب آگئے اور وہ فرعون جو زبر دست اور بڑا بنا ہوا تھا۔ذلیل خوار ہو کر مر گیا۔پس جب اللہ تعالی کمزوروں اور ضعیفوں کو بلند کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ غریبوں کو لیتا اور ان کو بڑھاتا ہے اور یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ وہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے۔دیکھو اگر امتیں قائم کرنے والے نبی بادشاہ ہوتے تو لوگ کہتے اپنی حکومت کے زور سے انہوں نے لوگوں کو اپنا پیرو بنا لیا۔مگر امتیں قائم کرنے والے سارے نبی ایسے ہی ہوئے ہیں جن کی ابتدائی حالت بہت کمزور تھی۔حضرت موسیٰ فرعون کی روٹیاں کھا کر پلے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا کو کوئی باپ نہ تھا۔مگر یوسف نجار کے بیٹے کہلائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم رہ گئے تھے اور آپ کی کوئی جائداد نہ تھی۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ہوئے ہیں۔آپ بھی دنیاوی لحاظ سے کوئی وجہ امتیاز نہ رکھتے تھے۔بعض انبیاء بادشاہ ہوئے ہیں۔جیسے حضرت سلیمان مگر ان سے کسی سلسلہ کی بنیاد نہیں چلی۔اور وہ حضرت داؤد کے سلسلہ کی عظمت کے زمانہ میں ہوئے۔اس سلسلہ کے تنزل کے وقت نہیں ہوئے۔تنزل کے وقت وہی ہوئے جو کمزور اور ضعیف تھے۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ایک جماعت قائم کی ہے اور اس سے بھی وہ کام لے رہا ہے جو آج تک بڑے بڑے بادشاہ بھی نہیں کر سکے۔تھوڑا عرصہ ہوا میں نے اسی مسجد میں کھڑے ہو کر اپنا منشاء ظاہر کیا تھا کہ برلن میں مسجد تعمیر کی جائے۔اور یہ بھی کہا تھا کہ گو ہماری جماعت پہلے ہی کمزور ہے اور اخراجات کا بہت بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ہے مگر اس کا بھی جو کمزور حصہ ہے اس کے سرمائے سے مسجد بنے۔گویا دنیا میں سب سے زیادہ کمزور جماعت جو ہے اس کا بھی کمزور حصہ (یعنی مستورات جو اس لحاظ سے بھی کمزور ہیں کہ ان کی کوئی علیحدہ کمائی نہیں ہوتی اور اس لحاظ سے بھی کہ مردوں جتنا علم نہیں ہوتا) یہ اس کام کو کرے تاکہ یہ ایک زبردست نشان ہو۔جب میں نے عورتوں میں یہ تحریک کی تو ہماری جماعت کے بعض لوگ بھی سمجھے کہ اتنا روپیہ نہ جمع ہو سکے گا۔پہلے میں نے تمہیں ہزار کا اندازہ لگایا تھا لیکن تحریک کرنے کے وقت پچاس ہزار کر دیا جسے ہماری جماعت کے لوگوں نے بھی بہت بڑی رقم سمجھا۔اور جب یہ رقم ۲۰ ہزار کے قریب وصول ہو چکی تو غیر اخباروں نے حیرت اور استعجاب کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔اور لکھا کہ احمدی عورتوں نے اس قدر روپیہ جمعہ کر دیا ہے۔پھر ابھی وہ مدت مقررہ گزری نہ تھی جو اس چندہ کی فراہمی کے لئے مقرر کی گئی تھی کہ مطلوبہ رقم سے زیادہ روپیہ یعنی ۶۰ ہزار جمع ہو