خطبات محمود (جلد 8) — Page 144
144 تھے ۲۔مگر اس کے معنے تو یہ ہیں کہ آپ دوسروں کے مال کی حفاظت کرتے تھے نہ کہ آپ کے پاس بھی مال تھا۔بے شک آپ کو لوگ نیک کہتے تھے مگر اس کے یہ معنی تو نہیں کہ لوگ آپ کی اطاعت بھی کریں چنانچہ جب آپ کو خدا نے کہا کہ اٹھ اور ان لوگوں کو ڈرا تو وہی لوگ جو آپ کو نیک کہتے تھے آپ کے مخالف ہو گئے۔یہ تو دنیاوی لحاظ سے آپ کے پاس کچھ بھی نہ تھا اور ظاہری سامان جن سے دنیا میں رتبہ اور درجہ حاصل ہوتا ہے وہ آپ کے پاس نہ تھے مگر جب خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس وادی غیر ذی زرع سے ایک ایسا انسان اٹھاؤں جو دنیا کو ایک خدا کی طرف کھینچ لائے اور ایک مرکز پر جمع کردے تو کوئی روک نہ سکا۔آپ کا وجود گویا ایک پیج تھا جو بڑھتے بڑھتے ایک بڑا درخت بن گیا اور آپ ہی دنیا کے بادشاہ نہ بن گئے بلکہ آپ کے غلام بھی بادشاہ ہو گئے۔حضرت ابو بکر کے متعلق آتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور حضرت ابو بکر کے والد کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے پوچھا اب کیا انتظام ہو گا۔ان کو بتایا گیا ابوبکر خلیفہ ہو گیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا۔کونسا ابوبکر۔جب کہا گیا آپ کا بیٹا تو انہوں نے کہا۔کیا ابو قحافہ کا بیٹا۔گویا ان کے خیال میں یہ بات آہی نہیں سکتی تھی کہ ان کا بیٹا بھی خلیفہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ جب حضرت ابو بکر کا نام لیا گیا تو قدرتی طور پر انہیں اپنے بیٹے کا خیال آنا چاہئیے تھے۔مثلاً اگر عبداللہ نام کا بادشاہ ہو اور اسی نام کا ایک شخص کا بیٹا ہو تو جب اسے کہا جائے عبداللہ آگیا۔تو وہ یہ نہیں خیال کرے گا کہ بادشاہ آگیا بلکہ یہی سمجھے گا کہ اس کا بیٹا آگیا۔پس قدرتی طور پر انہیں اپنے بیٹے کے متعلق خیال آنا چاہیئے تھا۔مگر انہوں نے پوچھا کون ابو بکر۔وہ بہت بعد میں اسلام لائے تھے۔جب انہیں بتایا گیا کہ آپ کا بیٹا تو انہوں نے کہا کہ مجھے آج ہی پتہ لگا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا اثر ہے کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو عربوں نے سردار مان لیا ہے۔حضرت ابو بکر جس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔اس کا کوئی جتھا نہ تھا اور سیاسی طور پر کمزور تھا۔یوں تو لوگ انہیں نیک سمجھتے تھے۔وہ ان کے لڑائی جھگڑوں میں صلح صفائی کرا دیا کرتے تھے۔مگر چونکہ ان کا جتھا نہ تھا۔اس لئے سرداری کے قابل نہ سمجھے جاتے تھے۔مگر آپ کو یہ رتبہ حاصل ہو گیا تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طفیل ایسے خاندان جو بہت ہی کمزور تھے ان کو بھی حکومت حاصل ہوگئی۔پس خدا تعالیٰ کا جب منشاء ہوتا ہے تو وہ کمزوروں کو بڑھا دیتا اور ان کے ذریعے ایسے ایسے عظیم الشان کام کراتا ہے کہ دنیاوی لحاظ سے بڑا درجہ رکھنے والے لوگ بھی نہیں کر سکتے۔اور نبیوں کے آنے کی غرض یہ بھی ہوتی ہیں کہ کمزور کو بڑھا کر بڑا بنا ئیں۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے متعلق آتا ہے ونرید ان نمن على الذين استضعفوا فى الأرض ونجعلهم ائمة ونجعلهم الوارثين (القصص : 1)