خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 126

126 ہماری جماعت میں میں دیکھتا ہوں بہت لوگ اخلاص سے کام کرنے والے ہیں مگر افسوس کہ کئی ایسے ہیں جو کام کا تجربہ نہیں رکھتے۔اور زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ تجربہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ صرف اخلاص کافی ہے۔مثلا کسی صیغہ کا افسر یا ہیڈ کلرک یا مدرسہ کا ہیڈ ماسٹریا قاضی یا مولوی جو کام پر مقرر کیا جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میرے جوش سے کام ہو جائے گا حالانکہ خالی جوش سے یہ تو ممکن ہے کہ نقصان ہو جائے مگر کامیابی نہیں ہو سکتی۔کہتے ہیں کسی نے ریچھ پالا ہوا تھا۔اس کی ماں بیمار تھی۔وہ کسی کام کو باہر گیا اور ریچھ کو بتا گیا کہ مکھیاں اڑاتا رہے۔ریچھ نے کچھ دیر تو یہ کام کیا لیکن جب دیکھا کہ ایک مکھی بار بار بیٹھتی ہے تو بڑا پتھر اٹھا کر دے مارا جس سے بیچاری وہ عورت بھی مرگئی۔تو خالی اخلاص بعض اوقات مہلک ہو جاتا ہے۔میں جب بیماری کی وجہ سے بمبئی گیا تو ہماری چھوٹی لڑکی جو بیمار تھی اسے ایک عورت سمندر کے کنارے کھلانے کے لئے لے گئی۔وہاں اسے پیاس لگی تو اس نے سمندر کا پانی پلا دیا جس سے وہ فوت ہو گئی۔اس نے تو اپنی طرف سے اخلاص سے ہی کام کیا مگر وہ مفید نہ ہوا۔تو بہت لوگ ایسے ہیں جو صرف اخلاص کو کافی سمجھتے ہیں اور کام کرنے کی قابلیت نہیں پیدا کرتے۔اس وجہ سے بہت سے کام ادھورے اور ناقص رہ جاتے ہیں۔حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کام اگر کسی ہندو یا اور کسی مذہب کے آدمی کے سپرد کیا جائے تو اچھی طرح چلے کیونکہ وہ تجربہ سے اور سوچ سمجھ کر احتیاط سے کرے گا۔پس اگر کوئی شخص اپنے متعلقہ کام کو عمدگی سے نہیں کرتا اور اپنی نا تجربہ کاری سے سلسلہ کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ محض اپنے اخلاص سے اس کی سزا سے نہیں بچ سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ اس سے یہ بھی تو پوچھے گا کہ کیا تمہارا اخلاص یہ نہ چاہتا تھا کہ تجربہ حاصل کرو اور کام کو عمدہ سے عمدہ طریق سے کرو۔تو جس کو سچا اخلاص ہو گا وہ کام سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے گا کہ اخلاص کا یہی تقاضا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جاہل لوگ جو حکیموں سے نسخہ لکھاتے ہیں وہ اوروں سے پڑھا کر پوچھتے ہیں کہ کیا اس میں کوئی چیز خراب یا نقصان رساں تو نہیں۔اس طرح کیوں کرتے ہیں اس لئے کہ جس کے لئے نسخہ لکھاتے ہیں اس سے انہیں کچی محبت ہوتی ہے اور یہ محبت کا ہی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ احتیاط کرتے ہیں۔جس شخص کے سپرد کوئی دینی کام کیا جاتا ہے۔اس کی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اور ذاتی کام سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ ذاتی کام سے زیادہ احتیاط دینی کام کرنے میں صرف کرے۔ہر وقت لگے رہنے سے کوئی کام نہیں ہو جاتا جب تک کام کرنے کے طریق سے کام نہ کیا جائے۔اگر اندھا دھند لگے رہنے سے کام ہو سکتا ہو تو چپڑاسی مقرر کر دینے کافی ہوں۔لیکن جب تعلیم یافتہ اور سمجھ دار انسان کسی کام پر لگایا جاتا ہے تو اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ کام کو