خطبات محمود (جلد 8) — Page 78
78 انبیاء اور مامور نہ بتا دیں ورنہ عقل کوشش کرتی ہے اور سمجھ نہیں سکتی۔جب لوگوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا۔اس سے الگ ہو گئے ان سے اطمینان بھی چھن گیا۔باوجود اس کے کہ کسی مذہب کی کتاب میں راحت و آرام کا یہ سامان نہیں جو قرآن کریم میں ہے لیکن نظر یہ آتا ہے کہ مسلمان سب سے کم مطمئن ہیں کیونکہ جتنی بڑی امید ہو اسی کے مطابق مایوسی بھی رنج وہ ہوتی ہے۔مسلمانوں کا دعویٰ سب سے بڑا دعویٰ ہے کہ ان میں خاتم النبین آیا۔مگر اس وقت ان کی حالت میں کچھ تغیر نہیں۔ایک عیسائی یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے سکتا ہے کہ انجیل تسلی کا موجب ہو سکتی تھی اگر محرف و مبدل نہ ہوتی۔یہودی بھی اپنے دل کو یہی کہکر تسلی دے سکتا ہے۔مگر مسلمان کے لئے اس طرح بھی تسلی نہیں۔دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کریم میں کوئی نقص نہیں آیا۔پس جب وہ دیکھتا ہے کہ خدا کا کلام تھا۔سچا کلام تھا۔مگر کوئی اطمینان نہ بخش سکا تو اس کی کیا حالت ہوگی۔اس وقت وہ یہی کہے گا کہ کیا خدا کا کلام بھی تسلی نہیں دے سکتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جنہوں نے خدا کے دئے ہوئے علم اور اس کی مدد سے قرآن کو پڑھا۔ان کے لئے قرآن ایک عقدہ لا نخیل نہ رہا اور ان کو اطمینان حاصل ہو گیا۔خدا کا کلام شکوک سے نجات دے سکتا ہے۔ان انسانوں کے لئے شک نہیں کہ جنہوں نے خدا کو دیکھا۔اس کا کلام سنا۔دنیا کے فلاسفران کے سامنے ایک بچہ کی حیثیت میں ہو گئے اور جاہل ثابت ہوئے کیونکہ خدا کے کلام نے لائیجل عقدے اپنے پیاروں کے ذریعہ اچھی طرح حل کر دئے۔یورپ سے کل ہی مجھے ایک خط مولوی مبارک علی صاحب کا آیا ہے جس میں انہوں نے وی آنا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے ایک خط کی نقل کی ہے۔(یہ یونیورسٹی یورپ بھر میں دماغی علوم کے شعبہ کے متعلق سب سے اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی گئی جاتی ہے اس کے بعد بھی اور یونیورسٹیاں ہیں۔مگر وی آنا یونیورسٹی اعلیٰ درجہ کی ہے) یہ خط اس یونیورسٹی کے مذہبی تعلیم کے پروفیسر کا ہے جو اس نے ایک اور جرمن پروفیسر کو لکھا ہے۔اس میں وہ لکھتا ہے کہ میں تم کو دلیری سے لکھتا ہوں اور تم جانتے ہو مجھے مبالغہ کی عادت نہیں۔نہ میں جھوٹ لکھتا ہوں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھ میں ان کتابوں کے مطالعہ نے ایک تغیر پیدا کر دیا ہے۔یہ حضرت صاحب کی کتابوں اسلامی اصول کی فلاسفی وغیرہ کی طرف اشارہ ہے کہ مولوی مبارک علی صاحب نے یہ ان کو دی تھیں۔وہ کہتا ہے کہ ان کتب کے لفظ لفظ نے وہ وہ مسائل حل کئے ہیں جو اب تک حل نہ ہوئے تھے۔اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اشاعت اسلام میں اپنا آئندہ وقت لگاؤں۔وہ مسائل جو میری عمر بھر میں حل نہ ہوئے۔ان کتب کی روشنی میں وہ معمولی باتیں نظر آتی ہیں۔ایک عیسائی لیکچرار جو پچیس سال سے مذہبی لیکچر دے رہا ہے۔اور فلسفہ پر اس کی نظر وسیع ہے۔وہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب کے سادہ سادہ بیان سے اس کے لائیجل مسائل حل ہو گئے۔