خطبات محمود (جلد 8) — Page 77
77 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ نہیں بڑھاتے بلکہ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز موت کی گھنٹی تھی۔حالانکہ آپ کی آواز بشارت کی آواز تھی جس نے دنیا کو مسرت اور شادمانی اور اطمینان سے بھر دیا اور وہی ایک انسان ہے جو مبشر کہلا سکتا ہے جس نے تمام دنیا کو بشارت دی اور شکوک وشبہات کے تمام پردے اٹھا دئے۔جو اس کے خلاف ہے وہ اپنے آپ کو تباہ کرتا اور دنیا کے لئے تباہی کا پیغام ہے۔یہ مہینہ جو چل رہا ہے رمضان کا مہینہ ہے۔اس میں مسلمان مجاہدہ کرتے ہیں اور خدا کی رضاء کے حصول کے لئے کوشش کرتے ہیں۔اسی زمانہ میں دنیا کے لئے سب سے بڑی بشارت کی بنیاد رکھی گئی جس نے دنیا کو شکوک سے نجات دلائی یعنی اس مہینہ میں قرآن کریم اترنا شروع ہوا۔جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے۔جبرائیل آتے اور ہر سال اس مہینہ میں آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے رہے۔یہ مہینہ دنیا کی آزادی کے لئے نشان ہے۔اس سے ہر ایک مسلمان خوش ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگ چھوٹی چھوٹی نشانیوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ ہمارے دوست کے بال ہیں۔یا کسی مقام کو یاد رکھتے ہیں کہ اس میں انہیں خوشخبری ملی تھی۔کسی عمارت سے خوش ہوتے ہیں کہ وہ اس میں پیدا ہوئے تھے۔کہتے ہیں یہ مکان میرے والد نے کرایہ پر لیا ہوا تھا جب وہ یہاں ملازم تھے۔تب میں پیدا ہوا تھا۔غرض ایسی ادنی ادنی باتوں کو خوشی کی یادگار بناتے ہیں۔پھر اس عظیم تعلق کے نشان سے کیوں نہ خوش ہونگے کہ اس میں قرآن کریم کا نزول شروع ہوا۔رمضان حضرت مسیح موعود کی صداقت پر بھی دلالت کرتا ہے۔اس لئے اگر یہ کلام وائی نہ تھا تو اس کی برکات کو دائمی کیسے قرار دیا گیا۔ہمیشہ کے لئے قرآن کریم تب ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ مسلمان خدا سے تعلق پیدا کر سکیں۔جہاں قرآن کریم کے نزول کا ذکر ہے وہاں دعا کا بھی ذکر ہے اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے ماننے والوں اور عمل کرنے والوں پر دائمی برکات ہوتی ہیں ان پر رحمت کے دروازے بند نہیں کئے جاتے۔اور اس کو ماننے والا جب متوجہ ہوتا ہے تو خدا کو پانے کی کھڑکی کو کھلا پاتا ہے۔اور جب دعا کرتا ہے تو خیالات کی تاریکی سے نکل کر وثوق پیدا کرتا ہے۔پس یہ خوشی کا مہینہ ہے۔برکتوں کا مہینہ ہے اور اس سے زیادہ سے زیادہ برکتیں حاصل کرلی جاسکتی ہیں۔یقیناً سمجھو کہ کوئی راحت یقین سے زیادہ نہیں اور بے اطمینانی سے زیادہ کوئی لعنت نہیں۔جیسا کہ پاگل ہونا لعنت ہے ایسا ہی بے اطمینانی بھی کیونکہ اور سب بیماریوں کا انسان علاج کر سکتا ہے اگر ایک یہی بیماری ہے کہ اس میں انسان اپنے آپ کو بھول جاتا ہے۔پس سب سے بڑا دکھ پراگندگی خیال ہے اور سب سے بڑا سکھ اطمینان قلب ہے لیکن یہ نہیں حاصل ہو سکتا جب تک