خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 73

73 حاجت ہوتی ہے۔تو وہ تم کو پینے کے اور ستر ڈہانچنے کے سامان دیتا ہے۔تمہیں رشتہ داروں کے لئے اور اپنے لئے مال کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تمہاری جائداد سے مدد کرتا ہے۔اسی طرح وہ تمہاری قومی مصائب کو دور کرے گا اور تم ان تکالیف سے نجات پاؤ گے۔وہ تمہیں نصرت دے گا اور یقیناً دے گا اگر تم یقین کرو اور اس کی ذات پر توکل کرو۔پس اس جگہ کے احباب بھی اور باہر کے لوگ بھی خصوصیت سے دعائیں کریں اور آگے سے بہت بڑھ کر کریں کیونکہ ہر ایک وقت اور کام کے لئے الگ الگ ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالی نے انسان میں ایک قوت موازنہ رکھی ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اندازہ کرتی ہے کہ کس کام کے لئے کتنی ضرورت ہے اور کتنی طاقت خرچ کرنی چاہئیے۔یہ حس حواس خمسہ سے زائد ہے۔مثلاً اگر ایک سوئی اٹھانی ہے تو اس کے لئے ایک جوش اور قوت کی ضرورت ہے مگر ایک من کے اٹھانے کے لئے جو جوش اور قوت درکار ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ایک سوئی کے لئے الگ تیاری ہوتی ہے اور ایک من کے لئے الگ۔پس یہ قوت موازنہ ہے جو انسان کو ہر کام کے وقت صحیح اندازہ بتاتی ہے اور اس طرح انسان کی طاقتیں محفوظ رہتی ہیں۔وہ ضرورت سے زیادہ طاقت خرچ نہیں کرتا اور جس کام کے لئے زیادہ قوت خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے تھوڑی طاقت خرچ کر کے انسان ناکام نہیں رہ جاتا ہے بلکہ ہر کام کے مناسب طاقت خرچ کرکے کامیاب ہو جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مومن ہر وقت دعائیں کرتا ہے مگر جس طرح ایک من بوجھ اٹھانے کے لئے اگر کوئی شخص سوئی کی طاقت خرچ کرے گا اور اس کو اٹھانے لگے گا تو اس کی طاقت ضائع ہو جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ اس کے حواس میں فرق آگیا ہے۔جس طرح سننے کی طاقت ہوتی ہے جس سے انسان سنتا ہے جب وہ ضائع ہو جاتی ہے تو اس کو بہرہ کہتے ہیں۔اسی طرح اگر تھوڑی طاقت سے بڑا کام کرنے کا ارادہ کرے تو مانا پڑے گا کہ اس میں موازنہ کی حس نہیں یا کمزور ہو گئی ہے اور باطل ہو گئی ہے۔بے شک ہماری جماعت دعائیں کرتی ہے مگر آج جو کام در پیش ہے اس کا سینکڑواں حصہ بھی پہلے نہ تھا۔پس پہلے جو ہم دعائیں کرتے تھے۔وہ اس وقت بہت تھوڑی ہیں۔اس سے بہت بڑھ چڑھ کر دعائیں کرو اور گریہ وزاری میں لگ باز تا خدا تعالیٰ کی نصرت تمہارے شامل حال ہو۔موقع کے مطابق زور لگاؤ جب تک تم پورے جوش اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کرو گے تو تمہیں کبھی نصرت نہ ملے گی اور تمہاری کوشش رائیگاں جائے گی۔یہ مت خیال کرو کہ پہلے بھی دعا کرتے تھے کیونکہ میں بتا چکا ہوں کہ وہ دعائیں اس وقت اس