خطبات محمود (جلد 8) — Page 72
72 میں مسلمانوں کی حالت بالکل ایسی لاوارث مال کی ہے۔جس کو ڈاکوؤں کی جماعت تقسیم کر رہی ہو۔اور اسلام ایک بے بسی کی حالت میں ہے۔اب ہماری جماعت اگر اپنے دعاوی میں صادق ہے تو اس کا فرض ہے کہ اسلام کی حمایت میں نکل پڑے۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس موقعہ کی خصوصیت کے لحاظ سے دعاؤں میں مصروف ہو جائیں۔ہمارے پاس طاقت قوت مال و دولت کچھ نہیں۔صرف خدا کی ذات ہے جس سے ہم یہ کام کروا سکتے ہیں۔کام کرنا تو اسی کا کام ہے مگر اس نے ہم کو سامان کرنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے ہارے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ظاہری سامان چندہ وغیرہ بھی مہیا کر دیں۔اگر خدا تعالی کا حکم نہ ہوتا تو اتنے بڑے دشمن کے مقابلہ میں میں اپنے سامان کرنا ہنستی سمجھتا اور اس کو جنون خیال کرتا۔اگر خدا کے حکم کے بغیر ہم ایسا کرتے تو میں اپنے آپ کو پاگل سمجھتا۔مگر کیا کریں اللہ تعالی کا قانون یہی ہے کہ اس کی نصرت پوری سامانوں اور جدوجہد کرنے کے بعد آتی ہے تاکہ اخفا کا پردہ نہ اٹھے کیونکہ وہ نامحرموں سے پردہ کرتا ہے جس طرح ایک عورت نامحرموں سے کرتی ہے۔اسی طرح خدا بھی اپنے نامحرموں سے پردہ کرتا ہے اور ان سے مخفی رہتا ہے جب تک کہ خود انسان کو شش کر کے اس پردہ کو چاک نہ کردے۔پس یہ اس کی سنت ہے کہ وہ قدرت نمائی اسی وقت کرتا ہے جب ظاہری سامانوں سے کام لیا جائے تا اس نصرت میں اخفا کا رنگ پیدا ہو جائے۔مومن بھی سامانوں سے کام لیں مگر جو نتائج ان کے نکلتے ہیں ان کے ساتھ تائید غیبی ہوتی ہے۔جب تک کسی کوشش کے ساتھ اللہ تعالٰی کی نصرت نہ ہو تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتی اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اس کے فضل پر موقوف ہے۔جب تک خدا کا فضل دستگیری نہ کرے تو انسان کچھ نہیں کر سکتا۔پس میں جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اہمیت کے مناسب دعاؤں میں لگ جائیں۔ان کے دل کو ٹھیس لگے اور دل سے آہیں نکلیں جو خدا کے فضل کی جاذب ہوں۔ان کو ایک اور صرف ایک۔ہی امید گاہ نظر آوے اور ان کی مصیبت کا مادی و طلبا صرف اللہ کی ذات ہو۔یہ بات حاصل ہو جائے تو اصل ایمان اور وثوق یہی ہے۔پھر اگر ساری دنیا بھی تم سے جھگڑتی ہے اور خدا تمہارے ساتھ ہے تو وہ دھو کہ خوردہ ہے کیونکہ تمہاری پشت پناہ وہ ہستی ہے جس کی قدرتوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔کامیابیوں کی کنجی نصرت الہی ہے اور وہ اس کے ساتھ محبت اور تعلق پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور توکل کرنے اور اس کے آستانے پر گر جانے سے ملتی ہے۔اگر تم ایسا کرو تو خدا تمہارے لئے جلال دکھائے گا اور قدرت نمائی کرے گا اور جس طرح تمہاری ذاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے تم کھانا مانگتے ہو تو تمہیں کھانا دیتا ہے۔تم پینے کے لئے مانگتے ہو اور تم کو ستر ڈھانکنے کی