خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 71

71 خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر لیتا ہے۔میں نے بارہا مثال سنائی ہے کہ ۱۹۰۵ء میں جب زلزلہ آیا تو لاہور میں ایک ہندو تھا جو دہریہ تھا۔وہ زلزلہ سے گھبرا کر رام رام کہتا ہوا بھاگا۔جب زلزلہ تھم گیا تو اس سے دریافت کیا گیا کہ تو تو کہا کرتا تھا کہ خدا کوئی نہیں۔اب یہ کیا ہو گیا۔اس نے کہا عادت تھی منہ سے نکل گیا۔حالانکہ اصل میں عادت نہ تھی وہ تو خدا کو برا بھلا کہا کرتا تھا ذاتی طور پر خطرہ دیکھ کر بے اختیار رام رام بول اٹھا۔کیونکہ خطرہ کے اہم خیال نے مصنوعی خیالات کو دبا لیا اور انسان کے اندر جو مخفی شہادت ہستی باری تعالٰی کی ہے وہ منہ پر جاری ہو گئی مگر وقت گذر جانے پر پھر کچھ نہیں۔پس ذاتی مصائب میں خدا کی طرف توجہ کرنا مومن سے خصوصیت نہیں رکھتا بلکہ ایسے اوقات میں تو دہریہ بھی اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔حقیقی یقین اور ایمان اور وثوق کا اس وقت پتہ لگتا ہے کہ جب قومی مصائب میں انسان خدا کی طرف توجہ کرے۔جو قوم ایسے اوقات میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔وہ اس بات کو ثابت کر دیتی ہے کہ اس کا اللہ تعالٰی سے کیا تعلق ہے۔مسلمانوں اور ہندوؤں میں کیا نہیں؟ یہی تو کہ وہ قومی مصائب میں دعا نہیں کرتے بلکہ الٹے ساد ہوؤں اور قبروں سے جاکر منتیں مانگتے ہیں۔ہم لوگ ان عقائد کے لئے سب دنیا سے جنگ کر رہے ہیں۔اگر ان سے پورے طور پر فائدہ نہ اٹھائیں تو بہت افسوس کا مقام ہو گا۔میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خاص طور پر دعاؤں میں لگ جائیں۔ساری دنیا اس وقت حملہ کر رہی ہے۔کئی سالوں سے عیسائی لوگ اس گھات میں تھے کہ کب موقعہ ملے تو مسلمانوں کو کھا جائیں۔سو اب انہوں نے بھی حملہ کر دیا ہے اور بہت سے لوگوں کو اسلام سے مرید کر رہے ہیں۔یہ جو کچھ ہوا مسلمانوں کی اپنی سستی اور غفلت کا نتیجہ ہے مگر ان کو تو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ان کو اس بات کا کوئی فکر نہیں کہ وہ یا ان کی اولادیں عیسائی بن جائیں۔ان باتوں کا اور ان حملوں کا دکھ اگر کسی کو ہو سکتا ہے تو وہ ہم ہی ہیں کہ جنہوں نے مذہب کو مذہب سمجھ کر قبول کیا اور حقیقت دیکھ کر مانا غیروں کو کیا درد ہے۔دوسری طرف ہندوؤں کو دیکھو کہ جن میں کبھی ایک آدمی بھی شامل نہ ہو تا تھا۔آج ہزاروں کو اپنے اندر داخل کر رہی ہے۔وہ قوم جس میں سے ہمیشہ لوگ جاتے رہے ہیں اور کبھی شامل نہیں ہوئے وہ بھی اسلام کو ملیا میٹ کرنے کی فکر میں ہے۔مسلمانوں کی حالت اس وقت بالکل بے بسی کی ہے۔یہ حملہ بالکل نیا اور خطرناک ہے جس کا مسلمانوں کو کوئی علاج نہیں سوجھتا۔پھر سکھوں نے بھی حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔بہت جگہ سے اطلاعیں آرہی ہیں کہ بہت سے مسلمان سکھ ہو رہے ہیں۔یہودی قوم نے بھی تبلیغ کا فیصلہ کر دیا ہے اور شام میں شروع بھی کر دی ہے۔پس ایسے وقت