خطبات محمود (جلد 8) — Page 65
65 بیرونی جماعتوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ غلطی لگی ہے کہ میں نے صرف سو روپیہ کا مطالبہ کیا ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ سو روپیہ کم سے کم ہے۔اس سے زیادہ ہر شخص جتنی طاقت رکھتا ہے دے۔جو شخص پانچ سو دے سکتا ہے مگر صرف سو دیتا ہے اس لئے کہ میں نے کم از کم سو روپیہ کا مطالبہ کیا ہے وہ اپنے لئے آپ رحمت کے دروازے بند کرتا ہے۔اور جو ہزار نہیں دیتا باوجودیکہ دے سکتا ہے۔وہ بھی اپنے اوپر رحمت کے دروازے بند کرتا اور ایک عظیم الشان موقعہ کو کھوتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی دو ہزار دے سکتا ہے وہ اتنا نہیں دیتا وہ بھی اپنے ترقی کے رستوں کو بند کرتا ہے۔جس طرح یہ فیصلہ نہیں کیا کہ سو سے زیادہ کوئی نہ دے اسی طرح یہ بھی فیصلہ نہیں کیا کہ سو سے کم نہ لیا جاوے۔ہاں یہ بات ہے کہ فی الحال وہ ہمارے مخاطب نہیں۔میں تمام جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بہت جلد اس رقم کو پورا کر دے اور ہر فرد جو ذی ثروت ہے اپنی ہمت کے مطابق حصہ لے۔(۲) مجلس مشاورت کے موقع پر دوسرا فیصلہ یہ ہوا تھا کہ پہلی تجویز کے مطابق جماعت میں پر زور تحریک کی جاوے کہ لوگ اپنے آپ کو تین تین ماہ کے لئے پیش کریں مجلس کے اس فیصلہ کو بھی میں نے منظور کیا ہے۔اب تک تین سو درخواستیں وقف کنندگان کی پہنچ چکی ہیں۔مگر کام بہت بڑا ہے۔سو کے قریب آدمی ہمارے علاقہ ارتداد میں ہمیشہ رہنے ضروری ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے علاقے ہیں جن میں یہی مرض پھوٹنے والا ہے۔ان میں بھی تبلیغ کرتا ہے۔پس کام کی اہمیت کے لحاظ سے یہ تعداد بہت ہی کم ہے۔اس وقت اگر ہم تھوڑا کام بھی ان علاقوں میں کریں گے تو بڑی کامیابی کی امید ہے۔پس اس لئے اس موقعہ پر ہماری جماعت کی تین سو درخواستیں بہت کم ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں ایسی درخواستیں ہمارے پاس پہنچنی چاہئیں تاکہ ہم اطمینان سے تقسیم کر سکیں۔اور بعض لوگوں کا ریز رو رہنا ضروری ہے تاکہ وقت پڑے پر کام آسکیں۔میں مانتا ہوں کہ شرائط کڑتی ہیں۔ان دنوں میں ایسی قربانی کرنا ایک مشکل امر ہے۔مگر یاد رکھو اس کے بدلہ میں جو کچھ مل سکتا ہے۔اور اس مشقت پر جو انعام ملنے والا ہے۔وہ اس تکلیف سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔تم زیادہ سے زیادہ یہی قربانی کرو گے کہ تین ماہ کے لئے بیوی بچوں کی صحبت ترک کرو گے اور کچھ اموال کی قربانی کرو گے اور اخراجات برداشت کرو گے اور کچھ وقت کی قربانی کرو گے۔مگر غور کرو کہ تم بیوی بچوں کی صحبت کو چھوڑو گے تو اس کے بدلے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی صحبت ملے گی۔تم تین ماہ کی قربانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ابدی زندگی عطا فرمائے گا۔اور جس طرح سے خدا کی ذات کامل اور ابدی ہے وہ ایسے لوگوں کو بھی ابدیت عنایت کرے گا۔تم اموال خرچ کرو گے اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ تم کو ایسے انعام دے گا جو عطاء غیر مجذوذ ہونگے اور کبھی