خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 58

58 کریں۔جب دربار لگ گیا تو پادری نے کہا کہ آپ کے رسول کی بیوی عائشہ پر الزام لگایا گیا ہے اور الزام لگانے والے بھی آپ کی قوم ہی میں سے ہیں۔اس لئے یہ اعتراض مضبوط ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمان عالم کے دل میں ڈال دی۔اور انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو معمولی بات ہے۔یہ دو واقعات ہیں جو آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔دو عورتوں پر زنا کا الزام لگایا ہے۔ایک تو وہ ہے جس کا خاوند موجود ہے اور اس پر زنا کا الزام بھی دیا جاتا ہے لیکن اس کے کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ایک اور عورت ہے جس کی شادی نہیں ہوتی۔اس کو زنا کا الزام دیا جاتا ہے اور اس کے بچہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔پادری شرمندہ ہوا اور کہا کہ مولوی صاحب آپ نے تو سختی شروع کر دی۔وہ تو میں نے یونسی بات کی تھی۔اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ ایسی ضرورت کے وقت پہلے علماء نے بھی سختی سے جواب دیا۔وہ لوگ جو کہا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔دیکھ لیں پہلے علماء بھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ ہوتا دیکھتے تھے تو دشمن کو اس کے گھر سے آگاہ کرنے کے لئے سختی سے جواب دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو وقت پر دلیل سکھاتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی دشمن دین پر حملہ کرے تو اللہ تعالٰی فورا مجھے جواب سکھاتا ہے۔مانتا نہ ماننا اور بات ہے مگر دشمن سے اس کا جواب نہیں بن پڑتا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ احمدیوں کو چھوڑ کر دلائل کے رنگ میں بھی مسلمان کرتے جاتے ہیں۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے ربنا اللہ کہنا اور استقاموا کی حالت کو چھوڑ دیا ہے۔دین سے ناواقف ہیں اور اس کے لئے حقیقی درد نہیں۔اس لئے ایسی قوم مستحق نہیں ہو سکتی کہ وہ خدا کی تائید کو جذب کر سکے۔ایسی قوم ہلاک ہوا کرتی ہے۔اگر علماء اسلام ان لوگوں کی جو آج مرتد ہو رہے ہیں کچھ بھی خبر رکھتے اور ان کو مسائل اسلام سے واقف کراتے تو آج آریہ لوگ ان کو اپنے اندر سمیٹ لینے کی جرأت نہ کرتے۔حقیقی اسلام تو کہاں ان کو قشر سے بھی واقفیت نہیں ہو سکتی۔اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں نے استقامت نہ دکھائی اور اس ذمہ داری کو نہ سمجھا جو مسلمان ہو کر ان پر عائد ہوئی تھی اور پانچ سو سال تک استقامت دکھائی اور پھر بیٹھ گئے۔ا یہ وقت ہماری جماعت کے لئے قابل غور ہے۔ہم نے بھی ربنا اللہ کہا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ استقامت دکھائیں۔اس وقت مسلمانوں کی حالت زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ من نه کردم شما حذر بکنید ہمیں پچھلے لوگوں کی حالت سے سبق لینا چاہیے اور چوکس ہو جانا چاہئیے۔میں کہتا ہوں کہ جہاں ہمیں مرتد ہونے والوں کے بچاؤ کی فکر کرنی چاہئیے ان کو بھی بچائیں جو ان کے قریب ہیں اور پھر اپنی