خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 59

59 نسلوں کے متعلق بھی اس اصول کو مد نظر رکھیں کہ آئندہ ہماری نسلیں اسلام سے واقف ہوں اور پھر وہ اپنی نسلوں کو اسلام سے واقف کریں اور اسی طرح قیامت تک یہ سلسلہ چلا جائے۔اگر ہم نے اس بات کا خیال نہ رکھا تو نعوذ باللہ ہمیں بھی آئندہ اس خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا جو راجپوتوں کے درپیش ہے۔آریہ لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ ان میں ہندوانہ رسوم ہیں اس لئے وہ پہلے ہی سے ہندو ہیں۔مگر ہندوستانی مسلمانوں کی کونسی قوم ہے جس میں ہندوانہ رسوم نہیں۔کیا سیدوں میں ہندوانہ رسوم نہیں۔کیا مغلوں میں نہیں۔کیا یہ بھی ہندو ہیں۔بات یہ ہے کہ جب اپنے مذہب سے واقفیت نہ ہو تو ہمسایہ قوموں سے متاثر ہونا بڑی بات نہیں۔اگر سیدوں میں رسوم ہیں اور وہ ہندو نہیں، مغلوں اور قریشیوں میں یہ ہندوانہ رسوم ہیں اور وہ ہندو نہیں تو مسلمان راجپوتوں میں اگر کچھ رسوم ہندوانہ پائی جاتی ہیں تو وہ کیسے ہندو ثابت ہو گئے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمان تھے اور دل سے مسلمان ہوئے تھے لیکن ان کی تربیت علماء نے نہ کی۔جس حال میں تھے اسی میں چھوڑ دئے گئے۔تربیت نہ ہونے کے باعث ہندوانہ رسوم ہمسایوں کے اثر سے آگئیں اور راسخ ہو گئیں۔پس نئے آنے والوں کی تربیت ضروری ہے۔جب تک ایک فرد واحد بھی موجود رہتا ہے جو اسلام سے واقف نہیں۔مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کو آگاہ کریں اور استقامت کے ماتحت ان کا فرض ہے کہ اپنے کمزور بھائیوں کو پختہ اور مضبوط بنائیں۔ورنہ کفار ان کو کھا جائیں گے۔جب تک جماعت کی یہ حالت بحیثیت مجموعی نہ ہو کہ وہ اسلام پر پختہ اور اصول سے واقف ہو جائے اس وقت تک جماعت محفوظ نہیں کی جا سکتی۔اگر افراد خطرے میں رہیں تو جماعت خود بخود خطرے میں ہوتی ہے اگر ایک کمرے کو آگ لگ جائے تو سارا مکان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔پس اگر ایک بھی کافر رہے گا تو وہ ترقی کرے گا اور کفر پھیلائے گا۔مومن کے کام کا وقت ہوتا ہے۔اگر وقت پر کام نہ کیا جائے تو خطرہ ہوتا ہے۔زندگی کا اعتماد نہیں اس لئے جو کام ہو جائے وہ غنیمت سمجھنا چاہیے۔ہمارا فرض ہے کہ اپنی نسلوں کی حفاظت کریں اور آئندہ نسلوں کو وصیت کردیں کہ وہ اپنی نسلوں کو دین سے بے خبر نہ ہونے دیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو جو قوم استقامت کو چھوڑے گی۔اس کی نسل کے لئے یہی خطرہ درپیش ہے۔ہمیں چاہیے کہ آئندہ نسلوں کی حفاظت کریں اور ان کی حفاظت کریں جو ہم میں شامل ہوں۔اگر دنیا میں ایک بھی ایسا شخص ہے جو لا الہ الا اللہ نہیں کہتا تو پھر ہمارے لئے امن سے بیٹھنے کا وقت نہیں۔ایک وقت عیسائی کتنے تھوڑے تھے۔مگر آج دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔اگر ہم استقامت دکھا ئیں ، اپنا فرض پورا کریں تو خدا کے فرشتوں کی آواز سن سکتے ہیں۔ورنہ نہیں۔