خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 557

557 کیا معلوم کہ اگلا جلسہ اس کو نصیب ہوتا ہے یا نہیں اور یہ با برکت موقع اس کو پھر بھی میسر آتا ہے یا نہیں الا ان يشاء اللہ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جس مقصد کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے۔اس کو فراموش نہ کریں۔اور عقل و دانش کا یہ تقاضا ہے کہ ان گھڑیوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی باتوں کو توجہ سے سنو اور دوسروں کو سناؤ کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو سب دنیا کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔دنیا کی کوئی قوم ہماری مددگار نہیں۔پس آپ خدا سے دعائیں کریں کہ وہ ہمارا ہو جائے۔جب وہ ہمارا ہو جائے تو کسی قوم کی عداوت ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔خدا تعالیٰ کے انبیاء کی بہت بڑی شان ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور انکساری اور خشوع و خضوع میں ان کے برابر کوئی نہیں ہو تا۔اور خدا تعالیٰ کی ان پر نظر ہوتی ہے۔ایسے قرب کے مقام پر ہوتے ہوئے بھی جہاں پر حضرت مسیح موعود نے اور دوستوں کو ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے دوران میں دعا کے لئے فرمایا وہاں مجھے بھی دعا کے لئے ارشاد فرمایا اس وقت میری عمر دس سال کی تھی۔اور یہ عمرایسی ہوتی ہے کہ مذہب کا بھی کوئی ایسا احساس نہیں ہوتا۔میں نے اس وقت رویا میں دیکھا کہ ہمارے گھر میں پولیس کے لوگ جمع ہیں۔اور دوسرے لوگ بھی ہیں۔پاتھیوں کا (اوپلوں کا ڈھیر ہے۔جس کو وہ آگ لگانا چاہتے ہیں۔لیکن جب بھی وہ آگ لگاتے ہیں۔آگ بجھ جاتی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ آؤ تیل ڈال کر پھر آگ لگائیں۔تب انہوں نے تیل ڈالا۔لیکن پھر بھی آگ نہ لگی۔اس وقت میری نظر اوپر کی طرف گئی۔اور میں نے دیکھا کہ ایک لکڑی پر موٹے الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ خدا کے بندوں کو کوئی نہیں جلا سکتا۔پس اگر خدا ہمارا ہو جائے اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہو جائے۔تو دنیا ہزار روکیں ہماری راہ میں پیدا کرے۔ہمارا کچھ نقصان نہیں کر سکتی۔اور اگر خدا تعالٰی ہمارے ساتھ ہے۔تو دنیا کی بادشاہتیں اور حکومتیں بھی ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔اس وقت ہماری مثال ایک بچے اور اس کی ماں کی مثال ہو گی کہ وہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھ کر دل میں کسی کا بھی خوف و خطرہ نہیں رکھتا۔اس کو اپنی ماں پر ایسا ناز اور ایسا گھمنڈ ہوتا ہے کہ اگر اس کو کوئی چھیڑے۔تو وہ جھٹ کہہ دیتا ہے کہ میں اپنی ماں سے کہہ دوں گا۔اس وقت ایک بادشاہ بھی اس کو ڈرا نہیں سکتا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کا اپنی ماں پر ایسا گمان سچا ہے یا جھوٹا۔مگر اس کے نزدیک جو کچھ ہے اس کی ماں ہی ہے۔جس کی شہ پر وہ کسی کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔حالانکہ