خطبات محمود (جلد 8) — Page 55
55 10 اپنے مذہب سے واقفیت اور استقامت کی ضرورت فرموده ۳۰ ر مارچ ۱۹۲۳ء) سورہ فاتحہ اور آیات ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملئكة الا تخافوا ولا تحزنوا وأبشروا بالجنة التي كنتم توعدون نحن اولينوكم في الحيوة الدنيا وفى الأخرة ولكم فيها ما تشتهى انفسكم ولكم فيها ما تدعون نزلا من غفور رحيم حم سجده ۳۱ تا ۳۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں ایک اہم امر کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا گیا ہے اور وہ امر موجودہ زمانہ کے لحاظ سے ایسا اہم اور ضروری ہے کہ باوجود اس کے کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی تھی کہ ایسے اہم مسئلہ پر تقریر کروں کیونکہ بات لمبی ہوتی ہے۔لیکن میں نے خیال کیا کہ اس اہم بات کو اور وقت پر اٹھا رکھنا مصلحت کے خلاف ہے۔بات کا فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا وقت اور موقع ہو۔لیکن جب وقت نہ رہے تو اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ایک شخص خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور دکھ اٹھاتا ہے۔اور ایک شخص خشیت الہی سے روتا ہے۔دونوں برابر نہیں۔بعض باتیں موقع پر یاد آجاتی ہیں اور اپنا کام کر جاتی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا ایک چھوٹا سا بچہ فوت ہوا۔اس کی والدہ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس پر شریعت کوئی روک نہیں ڈالتی۔مگر اس وقت ایک عورت آئی وہ اس طرح رو رہی تھی کہ سب کو حیرت ہوئی رشتہ دار تو اس درد سے روتے نہیں اس کو رونے کی کیا وجہ ہے۔آخر اس سے پوچھا گیا کہ اس کا کیا باعث ہے تو اس نے جواب دیا کہ اس وقت ایک شخص مجھے نظر آیا ہے جس کی شکل میرے بھائی جیسی ہے۔میرا بھائی فوت ہو چکا ہے۔اس کو دیکھ کر میں رو پڑی کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنا بھائی یاد آگیا۔وہ شخص اس سے پہلے بھی اس کے سامنے آتا تھا مگر اس کو دیکھ کر رونے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت دل نرم تھا۔بچہ کی موت کا اثر ہوا۔دوسرے وقت میں یہ بات نہیں