خطبات محمود (جلد 8) — Page 56
56 ہوتی تھی۔را اس وقت ہندوستان میں ارتداد کا فتنہ پھیلا ہوا ہے۔انہی فتنوں کے انسداد کے لئے یہ آیت تھی۔یہ فتنہ مسلمانوں کی بے توجہی کا نتیجہ ہے۔پس جماعت کو چاہیے کہ ہمیشہ اس مضمون کو مد نظر رکھا کرے اور بھولے نہیں۔اس آیت میں مومن بندوں کی ذمہ داری بیان کی گئی ہے۔وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے جس کو ہم خدا مانتے ہیں۔وہ اللہ واحد ہستی ہے۔اللہ علم ہے جو ذات کا نام ہے۔اللہ رب ہے اور اپنی ذات میں کامل ہے۔اس کے سوا ہم کسی کو نہیں مانتے۔توحید کامل اسلام کے سوا کہیں نہیں ملتی۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اسلام کو مانتے ہیں۔وہ مانتے ہیں اور ساتھ ہی اس پر استقامت کرتے ہیں یعنی اللہ تعالٰی کو مان کر ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرتے ہیں۔جب ان میں یہ دو باتیں پیدا ہو جاتی ہیں تو ان پر ملا نکتہ اللہ نازل ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تم خوف و حزن نہ کرو۔خوف کے مقابلہ میں جب حزن ہو تو اس سے آئندہ ڈر مراد ہوتا ہے۔پس ان کو کہا جاتا ہے کہ نہ پچھلی غلطیوں کا خوف کرو۔نہ آئندہ کے لئے ڈر کر ہمت ہارو۔اور پھر صرف ان کو یہی نہیں کہتے کہ تمہارے لئے کوئی صدمہ نہیں بلکہ وہ ان کو کہتے ہیں کہ تم خوش ہو جاؤ۔تمہارے لئے وہ آرام ہیں جن کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔یہ بات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے اس میں یہ ذکر نہیں کہ منہ سے کہدیا اور استقامت ہو گئی بلکہ استقامت وہ ہوتی ہے جو اعمال میں ہوتی ہے۔استقامت گذشتہ واقعات پر بھی نہیں بلکہ آئندہ آنے والی مشکلات اور تکالیف کے مقابلہ میں مضبوطی دکھانے کا نام استقامت ہے۔استقامت میں وہ ذمہ داریاں مراد ہیں جو دعوئی ایمان باللہ کے ساتھ عائد ہوتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ مسلمان یا احمدی ان فرائض کو ادا کریں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کئے گئے ہیں۔جب تک مسلمان یا احمدی کہ یہی حقیقی اسلام کی جماعت ہے سمجھتے رہیں گے کہ محض کلمات کافی نہیں بلکہ کلمہ کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے وہ بوجھ اٹھا لیا جو اس کلمہ کے پڑھنے یا بیعت کرنے کے ساتھ ہم پر عائد ہو گیا۔تب تک وہ استقامت کے موافق نہیں ہوں گے۔کلمہ شہادت پڑھنے اور بیعت کرنے کے موقع میں کہ گویا یہ اقرار ہے کہ میں نے ان ذمہ داریوں کو اٹھا لیا جو بیعت اور کلمہ شہادت کے ساتھ انسان پر عائد ہو جاتی ہیں۔جب کوئی شخص ان ذمہ داریوں کو اٹھا لیتا ہے۔پھر ان پر فرشتہ نازل ہوتا ہے۔کروڑوں مسلمان ہیں جو ربنا اللہ کہتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں مگر باوجود اس کے ان پر نزول ملا ٹکہ نہیں ہو تا۔ان کو کوئی بشارت نہیں ملتی۔ان مہربانی کا سلوک نہیں ہوتا۔ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص بادشاہ کا درباری ہو اور اس سے بادشاہ مہربانی سے پیش نہ آئے۔یہ سچ ہے کہ مراتب ہوتے ہیں۔ایک مقرب سے بادشاہ باتیں کرتا ہے