خطبات محمود (جلد 8) — Page 539
539 میرے پگھل جانے سے تمہاری اصلاح ہو جائے۔تو میرے لئے اسی میں میری خوشی اور راحت ہے۔غالب کا ایک شعر مجھے اکثر یاد آ جاتا ہے۔اور اس کو میں ہمیشہ مسیح موعود اور آپ کی جماعت پر چسپاں کیا کرتا ہوں داغ فراق صبحت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے یعنی وہ آخری وجود جس کو خدا تعالیٰ دنیا کی بہبودی اور اصلاح کے لئے مبعوث کرے گا۔وہ اپنی ساری ہمت اور کوشش سے تمہاری بہتری اور بھلائی چاہے گا۔وہ دکھ اٹھائے گا وہ غم کھائے گا۔مگر تمہارے لئے وہ جلے گا۔مگر اس لئے کہ تم کو روشن کرے۔مگر آخر تم کہو گے کہ وہ شمع تو خاموش ہو گئی۔اب کوئی اور شمع روشن ہونی چاہیئے۔پس تم اپنے اندر سچا اخلاص اور کامل روحانیت پیدا اب میں کچھ اپنی ذاتی بات بھی کہتا ہوں۔آج کا خطبہ تو میں نے کسی اور بات پر کہنا تھا۔لیکن میں نے اس کو کسی دوسرے وقت پر ملتوی کر دیا ہے۔وہ بات جو میں کہنی چاہتا ہوں۔کسی کا عقیدہ ہو یا نہ ہو۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ میں میت کے لئے دعاء مغفرت اور جنازہ ایک ایسی چیز خیال کرتا ہوں جو کئی دفعہ ادا ہو سکتا ہے۔اور صحابہ کی سنت سے یہ بھی ثابت ہے کہ انہوں نے چھ چھ آٹھ آٹھ دفعہ بھی جنازہ کی تکبیریں کہی ہیں۔تاکہ دعا کا زیادہ موقعہ ملے۔میں نے کل اپنی دوسری بیوی کے جنازہ پر آٹھ تکبیریں کسی تھیں۔تاکہ مرحومہ کے لئے زیادہ دعا کی جاسکے۔میرے دل کی یہ بھی خواہش ہے کہ میں ان کا جنازہ آج پھر اس بابرکت مقام میں بھی پڑھوں جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ ہے۔اگر کوئی اس عقیدہ کا قائل ہے کہ جس کے نزدیک جنازہ ایک سے زیادہ دفعہ نہیں ہو سکتا۔تو میں اس کو اس جنازہ میں شریک ہونے کے لئے نہیں کہتا۔باقی سب دوستوں سے میں درخواست کرتا ہوں۔کہ نماز کے بعد میں مرحومہ کا جنازہ پڑھوں گا۔وہ دعا میں میرے ساتھ شامل ہوں۔میں اس بات کے کہنے سے بھی نہیں رک سکتا کہ عورتوں پر خصوصیت سے میری اس بیوی کا احسان ہے حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد میرا منشاء نہیں تھا کہ میں عورتوں میں درس دیا کروں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہت ہی بڑی ہمت کا کام ہے کہ ایسے عظیم الشان والد کی وفات کے تیسرے روز ہی امتہ الحی نے مجھ کو رقعہ لکھا۔اس وقت میری ان سے شادی نہیں ہوئی تھی کہ