خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 529

529 میں پھر ساری جماعت احمدیہ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ جس طرح اخلاص اور محبت سے یہ زمانہ گذرا ہے۔ایسے ہی اسے ہمیشہ کے لئے آپس کی محبت سے معمور رکھے۔اور ہمیشہ خدا سے اس کا تعلق قائم رہے۔کسی دن وہ خدا سے دور نہ ہوں۔اور خدا ان سے دور نہ ہو۔وہ خدا کے ہوں۔اور خدا ان کا ہو۔اور رضی اللہ عنہ و رضواعنہ کے پورے پورے مصداق بن جائیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ پچھلے سال اسی ماہ میں آج سے تین چار دن پہلے ایک خواب کی بنا پر اعلان کیا گیا تھا کہ پھر طاعون پھیلنے والی ہے وہ خواب پوری ہوئی۔اور ایسی حالت میں پوری ہوئی کہ گورنمنٹ کے اعلان بتا رہے تھے۔کہ طاعون کو بالکل مٹا دیا گیا ہے۔اور اب وہ نہیں پھیل سکتی۔مگر اس کے خلاف طاعون کے پھیلنے کی خبر قبل از وقت شائع کر دی گئی تھی۔اس کے بعد طاعون پڑی اور ایسی شدید پڑی کہ گذشتہ ۸ - ۱۰ سال میں ایسی نہ پڑی تھی۔اب کے پھر اپنے موسم سے قبل شروع ہو گئی ہے۔اور قادیان میں بھی ہے جس کے متعلق ڈاکٹروں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ تدابیر کریں۔مگر اس کے متعلق اصل تدبیر تو خدا تعالیٰ ہی کے آگے کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا تھا۔آگ تیری غلام بلکہ تیرے غلاموں کی غلام ہے۔اس آگ سے مراد طاعون بھی ہے۔اور حضرت مسیح موعود کی غلامی میں داخل ہونا اس کا علاج ہے پس خدا تعالیٰ سے دعا مانگنا اصل علاج ہے۔اور اس کا فضل چاہنا صحیح تدبیریں ہیں۔مگر اس نے خود ہی ایسی تدبیریں بتائی ہیں کہ جن سے مومن اور کافر دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بلکہ مومن کا کام یہ ہے کہ ان سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔کیونکہ وہ اس کے رب کی طرف سے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کا قطرہ منہ کھول کر اس میں ڈالتے اور فرماتے یہ خدا کی تازہ نعمت ہے۔کیا ہی شکر گذار دل ہے۔تو اگر یہ تدبیریں کسی اور ہستی کی طرف سے ہوتیں تو مومن ان کے قریب بھی نہ جاتا لیکن جب یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔تو کوئی وجہ نہیں کہ ان پر عمل نہ کریں۔پس چاہیئے کہ دوست ان ایام میں مکانوں اور کپڑوں کو دھوپ لگوائیں ہیں۔جن کو میسر ہو جرابیں پہنیں۔کونین کافور اور جدوار کی گولیاں ایک ایک صبح و شام کھائیں اور صفائی کا خاص طور پر خیال رکھیں۔جہاں کوئی مریض ہو۔وہاں حفظان صحت کی رو سے احتیاط کی جائے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمدردی نہ کریں۔مومن کا فرض ہے کہ خواہ کوئی ہو۔مصیبت کے وقت اس کی ہمدردی کرے۔یہاں ہندوؤں اور غیر احمدیوں سے ہمارے اختلاف رہے ہیں۔اور ہیں۔ان کا کوئی خیال نہیں کرنا چاہئے۔میں سب احمدیوں کو اور خاص کر ڈاکٹروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ ان کی نظر