خطبات محمود (جلد 8) — Page 522
522 ہے کہ یہ ضروری تھا۔اور جب ری ایکشن ہوتا ہے تو اسے سمجھتا ہے کہ یہ ضروری تھا۔انسان کی یہ نارمل حالت ہے۔جب انسان ان کیفیات کی اس حالت میں سے گذرتا ہے تو موجودہ حالت اور مستقبل قریب کی حالت میں جوش نمو کام کرتا ہے۔اور گذشتہ کے بھلانے کا جوش پیدا ہوتا رہتا ہے۔پھر اس کے بعد غیر معمولی تغیرات کا سلسلہ چلتا ہے۔ان میں سے پھر کبھی یہ حالت پیدا ہوتی کہ قوت فاعلی ہی کا اثر چلا جاتا ہے اور انفعالی قوت آتی ہی نہیں۔اور زمانہ قوت فاعلی کے ہے اثرات کو مٹاتا نہیں۔ری ایکشن کی حالت پیدا نہیں ہوتی تو دماغ کی حالت بیکار نہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اپنی ہی قوتیں ٹکرا کر بیکار ہو جائیں گی۔پھر ایک اور تغیر ہے کہ قوت فاعلی حد سے نہیں گزرتی۔موقعہ پر سختی کرتا اور ناراض ہوتا۔مگر موقعہ سے زیادہ نہیں بڑھتا۔اس سے قوت فاعلی کا ذخیرہ کافی رہتا ہے۔چونکہ عین محل پر غصہ اور عین موقعہ پر خوش ہوتا ہے اس لئے دونوں قوتیں زندہ رہتی ہیں نہ ضائع ہوتی ہیں اور نہ زنگ آلود ہوتی ہیں۔ایسا ہی قوت انفعالی کا حال ہے چونکہ شدید غصہ نہیں ہوتا۔اس لئے بھی افسوس کمزور ہوتا ہے۔اس لئے دونوں طاقتیں محفوظ رہتی ہیں۔یہ بہت اعلیٰ درجہ کی بات ہے جو روحانی کہلاتی ہے۔تو اب تین درجے ہوئے۔ایک طبعی ایک حیوانی اور ایک روحانی۔یہ ایک قانون ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک اور قانون ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالٰی نے انسان کی زندگی کو ایسا بنایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی دو صفتوں کے ماتحت چلتی ہے۔اگر ایسی حالت نہ ہو۔تو ان صفات کا انسان سے کوئی تعلق نہ رہے۔وہ صفات قبض اور بسط کی ہیں۔اور خدا کا نام القابض اور الباسط ہے۔يقبض و بسط اگر غور کریں۔تو انسانی حالت ان ہر دو صفات کے ماتحت ہمیشہ جاری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور رونے لگا کہ یا رسول اللہ میں منافق ہو گیا آپ نے پوچھا کیوں۔عرض کیا کہ جب میں آپ کی مجلس میں ہوتا ہوں۔تو میری یہ حالت ہوتی ہے۔کہ جنت ونار میرے سامنے ہوتے ہیں۔اور جب میں گھر جاتا ہوں تو یہ حالت جاتی رہتی ہے اور میں سب کچھ بھول جاتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی تو ایمان ہے۔شہ ایمان ایسی حالت میں سے گذرتا ہے اور مومن کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا ہے۔یعنی اس پر قبض اور بسط کی حالت آتی رہتی ہے۔ایک وقت اس پر ایسا آجاتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ علم اور معرفت کو اس سے ایسے طور پر ہٹا لیتا ہے کہ اسے خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ آیا وہ مومن ہے یا نہیں۔پھر ایک وقت