خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 521

+ 521 81 پسنا نامی جہاز کے تختہ پر حضور کا خطبہ جمعہ (فرموده ۱۴ نومبر ۶۹۲۴) شھد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا معمولی حالات کے ماتحت خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال رہے تو اور کوئی جمعہ ہندوستان کے باہر نہ آئے گا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ باوجود یکہ ہم بوجہ مسافر ہونے کے ظہر کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔جمعہ کی نماز پڑھ لیں۔انسانی زندگی کو اگر دیکھا جاوے تو اس میں دو کیفیتیں پائی جاتی ہیں۔اور وہ دونوں ہی اپنی ذات میں شدید ہوتی ہیں ایسی شدید کہ انسان سمجھتا ہے کہ ان کیفیات کا ہی ساری زندگی پر اثر ہے۔لیکن دونوں حالتوں کا دوسرے وقت میں انسان اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ وہ پیدا ہی کیونکر ہو سکتی ہیں۔وہ کیفیتیں کیا ہیں ایک یہ کہ جس وقت انسان کو کوئی معاملہ پیش آتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ جس رنگ میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے۔ترقی کا یہی ایک ذریعہ ہے۔اور اگر یہ نہ ہو تو وہ تباہ ہو جاوے۔دوسرے یہ کہ جب وہ بات ہو جاتی ہے۔تو وہ کہتا ہے کہ یہ معمولی بات تھی ہوتی تو کیا اور نہ ہوتی تو کیا؟ اگر جوش دکھالیا تو کیا نہ دکھاتا تو کچھ ہرج نہ تھا۔یہ کیفیتیں دنیا کے ہر کام میں نظر آتی ہیں۔ایک وقت ہوتا ہے۔خاص رو میں جذبات سے چلے جاتے ہیں۔اور جب وہ کام ہو چکتا ہے۔تو دوسرا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ہم لوگ اس کا نام قوت فاعلی اور انفعالی رکھتے ہیں۔اور مغربی لوگ اس کو ایکشن اور ری ایکشن کہتے ہیں۔بات ایک ہی ہے۔ایک شخص نقصان کرتا ہے۔تو غصہ کے جذبات جوش میں آتے ہیں۔اس وقت یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ناراض نہ ہوں تو کیا ہو لیکن جب وہ وقت گذر جاتا ہے تو دوسری کیفیت اپنا اثر شروع کرتی ہے۔تب کہتا ہے کہ اگر میں خاموش رہتا تو کیا حرج تھا۔جب ایکشن ہوتا ہے تو سمجھتا