خطبات محمود (جلد 8) — Page 497
497 کیا۔۴۰ پھر کیا تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہو۔میں جب اس کا خیال کرتا ہوں۔تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔سوال لا کا ہے آیا یہ جائز ہے۔یا نہیں۔میں جانتا ہوں۔ایسے لوگ ہو سکتے ہیں۔جو مبادی کے انتہائی نقطہ تک پہنچ جائیں۔اور ان پر اثر نہ ہو۔بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں۔جو اس سے بھی آگے ہوں کہ وہ ایک جگہ لیٹے ہوئے ہوں اور پھر بھی پاک ہوں۔بلکہ اس سے آگے جا کر بھی ان کے قلب متاثر نہ ہوں۔یہ ممکن ہے لیکن ان کی مثال دوسروں کے لئے نہیں ہو سکتی۔ہم قانون کو دیکھیں گے کہ وہ کیا حکم دیتا ہے۔شریعت کمزوروں کا خیال رکھتی ہے۔اور وہ عام قانون دیتی ہے۔اگر ایسا ہو تا تو ممکن تھا دست بکار و دل به یار کے ماتحت نماز روزہ ترک کر دیا جاتا اور ایسے لوگ ہو سکتے تھے کہ فی الحقیقت دنیا کی کوئی مصروفیت ان کو اپنے موٹی سے الگ نہ کر سکتی مگر یہ نماز روزہ اور ظاہری احکام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ساقط نہیں ہوئے۔اس لئے کہ ایک قانون عمومی تھا۔حضرت ابو بکڑ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی فضیلت نمازوں سے نہیں ۵۰ اور ہم نے تو یہ تجربہ کیا ہے کہ بعض وقت ایک مرتبہ کی تسبیح ۱۵ سال کی عبادت سے بڑھ جاتی ہے مگر ایسی تسبیح والے کو بھی نماز چھوڑنے کی اجازت نہ ہو گی۔ورنہ دوسرے بھی چھوڑ دیں گے پس یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ یہ احکام بظاہر چھوٹے ہوں۔مگر ان کے اثرات بہت بڑے ہوتے ہیں۔مصافحہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے اس سے بھی بڑھ کر مبادی ہوں۔مگر قلبی اثر نہ ہو۔جس کے روکنے کا حکم دیا ہے۔مگر مصافحہ سے کیوں منع کیا؟ اس لئے کہ دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہو۔اعمال صرف کولے ہوتے ہیں۔حقیقت ان کے اندر نہیں ہوتی۔یہ خود روحانی پاکیزگی نہیں۔مگر اس کا اثر روحانی پاکیزگی پر ہوتا ہے۔میں مانتا ہوں کہ بعض ارواح ان حالات سے متاثر نہیں ہوتی ہیں۔مگر یہ قانون نہیں ہو سکتا اور اس لئے باوجود متاثر نہ ہونے کے بھی قانون کی پابندی سے مستثنیٰ نہیں کی جا سکتیں کوئی کہہ سکتا ہے کہ نیک آدمی مصافحہ کر کے بھی نیک رہ سکتے ہیں۔اور ان کی روحانی حالت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔میں نے تو اس سے بھی بڑھ کر کہا ہے کہ اگر ہر شخص ایسا نہیں ہو سکتا۔اور نہ ایسے لوگوں کا بھی قانون شریعت نے کوئی استثنا کیا ہے۔اسی طرح قرآن مجید کے دوسرے احکام میں مثلاً جس ذبیح پر خدا کا نام نہ لیا جائے۔وہ کھانا نہیں چاہیئے۔مگر لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔اس معاملہ میں مبلغوں نے اور دوسروں نے بھی غلطی کھائی ہے۔ایسی باتوں سے دین کی تحقیر ہو جاتی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کر دیں کہ قومی طور پر ہم ایک چٹان ہیں