خطبات محمود (جلد 8) — Page 489
489 میں یقیناً جانتا ہوں۔اور قوموں کی ترقی اور تنزل کے اسباب و وجوہات پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر ہم اپنا قومی کریکٹر نہ بنادیں گے۔تو ہماری ترقی نہ ہوگی۔اور ہماری مثال ایسی ہو گی جیسے آگ کے ذریعہ سے ایک جوش اور ابال پیدا ہوتا ہے اور جب آگ بجھ جاتی ہے۔تو وہ جوش بھی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔رفتہ رفتہ اس پانی کی حرارت بھی دور ہو کر وہ سرد کا سرد رہ جاتا ہے۔قومی زندگی کے لئے ایسی آگ کی ضرورت ہے۔جو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے پیدا ہو اور وہ با کٹر کی طرح کام کرتی رہے۔تب قوموں کی زندگی قائم رہتی ہے۔پس جب تک ہمارے اندر ایسی حرارت اور آگ پیدا نہ ہو۔ہم زندہ قوم بننے کی توقع نہیں کر سکتے۔ایک اور بات قابل غور ہے۔اور وہ یہ ہے کہ نقطہ نگاہ کے بدلنے سے ایک چیز کی صورت بدل جاتی ہے۔شکل بنانے والی چیز وہ نقطہ نگاہ ہے۔مثلاً ماں باپ کا احسان ہے۔ایک نقطہ نگاہ کی وجہ سے احسان کا اعتراف کیا جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ وہ ہمارے وجود کا باعث ہوئے اور انہوں نے خبر گیری کی اور ہمارے لئے تکلیفیں اٹھائیں یہ ان کا احسان ہے۔اور ان کی عزت و احترام کرنا چاہیئے لیکن ایک شخص اس نقطہ نگاہ کو بدل لیتا ہے اور اس کام کو اور واقعات کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ ان کی غرض کیا تھی؟ ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں۔جو یہ کہتے ہیں کہ ماں باپ کا کیا احسان ہے؟ انہوں نے جو کچھ کیا اپنی شہوانی اغراض کے لئے کیا۔اب غور کرو کہ ایک نقطہ نگاہ کے بدلنے سے کیا صورت تبدیل ہو گئی۔غرض نقطہ نگاہ بدلنے سے شکل بدل جاتی ہے۔یہی حال مذہب کی تعلیمات اور احکام کا ہے۔ایک نقطہ نگاہ سے ایک فعل مذہب کا جزو اور ضروری جزو معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر اسے بدل دیا جاوے تو غیر ضروری ہو جاتا ہے۔پس نقطہ نگاہ کو کبھی ہاتھ سے نہ دو۔مجھے اس نقطہ نگاہ پر ایک کہانی یاد آگئی ایک شخص تھا جو بڑا بہادر بنا ہوا تھا۔وہ ایک گودنے والے کے پاس گیا۔اور اسے کہا کہ میری پیٹھ پر شیر کی تصویر گود دو اس نے جب شیر کی دم بنانی چاہی تو اسے تکلیف ہونے لگی۔اس سے پوچھا کہ کیا بناتا ہے۔اس نے کہا دم۔اس پر اس نے سوال کیا کہ کیا بغیر دم کے شیر نہیں ہوتا۔اس نے کہا کہ کیوں نہیں۔تو کہا اچھا دم رہنے دو۔اسی طرح ہر عضو پر وہ کہہ دیتا اور اسے چھوڑوا دیتا رہا۔آخر کچھ بھی نہ بنا۔یہ سب کچھ ایک نقطہ نگاہ کی نذر ہو گیا۔وہ نقطہ کیا تھا؟ کہ وردنہ ہو جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شیر نہ بن سکا۔بعینہ یہی حالت مذہب کی ہے۔انسان سمجھ لیتا ہے کہ اس چیز کے بغیر کیا مذہب باقی نہیں رہتا؟ یہ بہت معمولی اور چھوٹی سی بات ہے۔جیسے بعض بے باک کہہ دیتے ہیں کہ کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا۔