خطبات محمود (جلد 8) — Page 46
46 یہی حال یہود کا ہے۔ وہ لوگ بھی اپنے آپ کو تمام دنیا سے افضل جانتے ہیں۔ قرآن کریم میں پڑھ کر دیکھ لو۔ وہ ہر جگہ ہر جگہ اپنے نسب پر اور اپنے خاندان پر فخر کرتے نے خاندان پر فخر کرتے اور حضرت اسحاق کو تما تمام برکات کا مورد مانتے اور ان کے سوا سب کو ان برکات سے بے نصیب ٹھہراتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں تعلیم اسلام پھیلانا کوئی معمولی بات نہیں۔ مگر ہمیں ان میں کام کرنا ہے اور ان میں اسلام کو پھیلانا ہے لیکن ہم باہر کے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ نہیں ہو سکتے جب تک ہم اپنے نفسوں کے حملوں سے محفوظ نہ ہو جائیں اور ہم ایک لمبے عرصہ تک اپنی مذہبی زندگی کا ثبوت نہ دیں۔ یہودی حضرت موسیٰ کی امت ہیں۔ ہندو حضرت کرشن کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کی امت ہیں۔ زرتشتی حضرت زرتشت کی امت ہیں۔ سکھ بادانا تک رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے دنیا پر غلبہ پایا مگر ایک زمانہ کے بعد ان : بعد ان میں خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ اس لئے خدا اس لئے خدا کو پھر نبی بھیجنا پڑا۔ اس لئے یہ خیال که احمدی ہوا ہے اور ہمارے متعلق بھی یہ ہونا چاہئیے کہ ہماری جماعت ایک بڑے زمانہ تک نقائص سے پاک رہے۔ ورنہ اگر ہماری جماعت کی حالت خدانخواستہ جلدی خراب ہو جائے اور اس کے افراد کے نفوس میں اصلاح نہ ہو تو پھر سخت افسوس ہی ہوگا۔ اگر جماعت آئندہ زمانہ میں لمبے عرصہ کے بعد خراب ہو تو ہو لیکن کم سے کم سینکڑوں سال تو روحانیت اس میں رہے۔ یہ تو ناممکن ہے کہ ہمیشہ کہلانے والوں میں کبھی نقص نہ پیدا ہو گا۔ درست نہیں۔ ہاں پہلی جماعتوں کے متعلق یہ رہے۔ مگر کسی نے کہا ہے به پھول تو اپنی بہار جاں فزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے ی ایسا تو نہ ہو کہ ایک تو وہ جماعتیں تھیں جنہوں نے سینکڑوں سال تک روحانیت کو زندہ رکھا۔ مگر ہم ایسے نہ ہوں جن کے متعلق لکھا جائے کہ انہوں نے نہ خود کامل زندگی پائی نہ کسی کو کامل زندگی دینے کے لائق ہوئے۔ پس کو کوئی جماعت نہیں جو ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو۔ ہاں اتنا تو ہونا چاہئیے کہ سینکڑوں سال تک محفوظ ہو جائے۔ مگر اس جماعت پر کتنا افسوس ہوگا جو لاکھوں کروڑوں سال تو الگ رہے سینکڑوں سال تک بھی محفوظ نہ رہے۔ پس ہماری جماعت کا کسی نیکی کے کام میں حصہ لینا اس وقت تک خوشی کا باعث نہیں ہو سکتا جب تک اس میں کامل زندگی نہ ہو اور سستی دور نہ ہو جائے اور استقلال نظر نہ آئے۔ فرض کرو کہ شدھی کا کام رک جائے تو کیا ہم پھر سو جائیں گے نہیں یہ نہیں سکتا۔ کیونکہ مومن ہتھیار باندھ کر اس وقت تک نہیں کھولا کرتا جب تک فتح فتح نہ ہو جائے۔ جنگ جنگ ہو