خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 448

448 71 (فرموده ۴ جولائی ۱۹۲۴ء) چند ضروری باتیں مشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لوگ مبعوث ہوتے ہیں ان کی تعلیم اس زمانہ کے خیالات کے مخالف ہوتی ہے کیونکہ وہ دنیا کی اصلاح کے لئے آتے ہیں۔اور یہی نبیوں اور دوسرے لوگوں میں فرق ہوتا ہے کہ باقی جس تعلیم کو پیش کرتے ہیں وہ وہی تعلیم ہوتی ہے جس کی طرف دنیا خود جا رہی ہوتی ہے جیسے آج کل مسٹر گاندھی ہیں۔گو انہوں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا لیکن لوگ چونکہ بطور مثال انہیں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو انہیں کس قدر کامیابی ہوئی۔اس لئے ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔اول تو ان کی کامیابی کا نتیجہ جلد ہی نکل آیا۔وہ ہندو اور مسلمان جو انہیں اپنا لیڈر اور پیشوا کہتے تھے۔آج ان کا بڑا حصہ انہیں چھوڑ چکا ہے اور اس طرح تھوڑے عرصے میں ہی ان کا عروج تنزل سے بدل گیا۔اس کے خلاف انبیاء سے خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہوتا ہے کہ ان کا قدم کو آہستہ آہستہ اٹھتا ہے مگر آگے ہی آگے بڑھتا ہے پیچھے نہیں ہٹتا۔دنیا میں اور لوگوں کو بھی بڑی بڑی فتوحات ہوئیں مگر نبیوں کو ان کے مقابلہ میں ہمیشہ یہ امتیازات حاصل رہے کہ اول جن لوگوں کے ذریعہ انبیاء فتوحات اور کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔وہ ان کے خود پیدا کردہ ہوتے ہیں۔دوسرے انبیاء زمانہ کی رو کے مخالف چلتے ہیں۔تیسرے ان کا ہر قدم ترقی کی طرف ہی جاتا ہے۔تنزل کی طرف نہیں جاتا۔چوتھے خدا تعالیٰ ان کی خبر اور شہرت کو آپ پھیلاتا ہے۔اسی سال یعنی گزشتہ بارہ مہینوں میں کئی نئی باتیں احمدیت کے متعلق معلوم ہوئی ہیں۔چنانچہ معلوم ہوا کہ چین میں احمدیہ جماعت موجود ہے۔وہاں کون گیا۔وہ لوگ کس طرح احمدی ہوئے۔ہمیں اس کا بھی علم نہیں اور نہ اس جماعت کے متعلق