خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 438

438 تشریح کروں گا۔صلوۃ عربی زبان میں دعا کو کہتے ہیں۔اور دعا مانگنے اور طلب کرنے کو کہتے ہیں۔اس لئے صلوتی کے معنے ہوئے میرا مانگنا اور مانگتا کوئی اسی وقت ہے۔جب اسے کسی چیز کی کمی ہوتی ہے۔مثلاً اگر ایک شخص کھانا مانگتا ہے۔تو اس لئے کہ اس کے پاس کھانا نہیں ہوتا۔اور وہ کھانے کا محتاج ہوتا ہے یا اگر کوئی کپڑا مانگتا ہے تو اس لئے کہ وہ کپڑے کا محتاج ہوتا ہے پس دعا نام ہے اپنی احتیاج اور ضرورت کے پورا ہونے کے لئے درخواست کرنے کا اور جب کوئی انسان اس آیت کا لفظ صلوتی کہتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میری ہر قسم کی عبادتیں جو مانگنے کے لئے کی جاتی ہیں اور روحانی ضروریات کے پورا کرنے کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔وہ خدا ہی کے لئے ہیں۔میری تمام روحانی ضروریات پوری کی جائیں۔تو اس لفظ میں اس حصہ عبادت کا ذکر کیا گیا ہے۔جس میں انسان کچھ طلب کرتا ہے۔پھر اس کے بعد نسکی فرمایا ہے۔نسک ان عبادات کو کہتے ہیں۔جن میں انسان خدا تعالیٰ سے کچھ مانگنے کی بجائے اس کے حضور کچھ پیش کرتا ہے نسکی کہہ کر بندہ یہ کہتا ہے کہ اے خدا میں تیرے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں۔پس ان صلوتی و نسکی کے یہ معنے ہوئے کہ یہ الفاظ کہنے والا خدا تعالیٰ کے حضور کہتا ہے کہ تمام عبادتیں جن میں میں کچھ مانگتا ہوں یا وہ تمام عبادتیں جن میں میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں وہ سب رب العالمین کے لئے ہیں۔پھر اس کے بعد معیلی کہتا ہے۔یعنی یہ کہ میری زندگی بھی خدائے رب العالمین کے لئے ہے۔زندگی کا مطلب کام کرنے کا زمانہ ہوتا ہے اور زندہ رہنے کے لئے انسان دوسری چیزوں کا محتاج ہے مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص زندہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ باہر کی چیزوں کو لے کر اپنے اندر جذب کرتا ہے۔درخت جانور اور انسان اسی وقت تک زندہ کہلاتے ہیں۔جب تک کہ وہ باہر کی چیزوں کو اپنے اند رکھینچتے ہیں۔تو محیلی کہہ کر انسان یہ ظاہر کرتا ہے کہ میرا وہ عملی حصہ جس میں میں باہر سے دوسری چیزوں کو اپنے اندر جذب کرتا ہوں۔وہ بھی خدا کے لئے ہے۔پس جس طرح انسان اپنی جسمانی زندگی کے لئے پانی اور غذا کا محتاج ہے۔اور ان کو اپنے اندر داخل کرتا ہے۔اسی طرح اپنی روحانی زندگی کے لئے صلوٰۃ کا محتاج ہے۔اس کی روحانی زندگی صلوۃ کے ذریعہ قائم ہوتی ہے۔پھر نسکی کے مقابل مماتی بیان کیا یعنی بندہ کہتا ہے۔میں اپنی جان بھی خدا کے ہی سپرد کرتا