خطبات محمود (جلد 8) — Page 437
437 69 (فرموده ۲۰ جون ۱۹۲۴ء) روحانی کمالات حاصل کرنے کا گر مشهد و تعوذ سورہ فاتحہ اور آیت قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتي لله رب العلمین (الانعام (۱۹۳) کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : قرآن کریم کے الفاظ نہایت مختصر ہیں۔لیکن ان کے مطالب نہایت وسیع ہیں۔اور واقع میں ایک ایسی کتاب جس کا یہ دعوئی ہو کہ وہ تمام اخلاقی و تمدنی اور روحانی ضروریات کا ذکر کرے گی۔وہ یا تو اتنی بڑی ہونی چاہیئے کہ اس کے پڑھنے کے لئے بڑی لمبی عمر کی ضرورت ہو یا پھر ایسی تدبیر اختیار کی جائے کہ نہایت مختصر الفاظ میں وسیع معانی بیان کئے جائیں اور اس کی ترتیب ایسی اعلی درجہ کی ہو کہ الفاظ پر غور کرنے سے نہایت وسیع مطالب نکلیں اب اگر ان تمام ضروریات اور حالات کو جو ۱۳۰۰ سو سال میں پیش آئے۔اور آئندہ پیش آئیں گے مفصل طور پر قرآن کریم میں بیان کیا جاتا۔تو ہزاروں بڑی بڑی ضخیم جلدوں میں قرآن کریم ہوتا اور اتنی ضخیم کتاب کو پڑھنے کے لئے موجودہ انسانی زندگی کافی نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق یہ صورت اختیار کرنے کی بجائے دوسری صورت رکھی ہے کہ الفاظ نہایت مختصر ہوں لیکن نہایت وسیع معافی اور مطالب کے حامل ہوں پس قرآن کریم کو ایسی طرز پر بیان کیا گیا ہے کہ اس کے وسیع مطالب اور معافی کو نہایت مختصر الفاظ میں بند کر دیا گیا ہے جیسا کہ اہل یورپ بعض غذاؤں کا تھوڑی سی مقدار میں اثر نکال لیتے ہیں وہ تو مادی اشیاء کا خلاصہ ہوتا ہے اور یہ میں نے بطور مثال بیان کیا ہے ورنہ اسے اس خلاصہ سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے جو خدا تعالیٰ نے حقائق اور معارف کا قرآن کریم کے الفاظ میں رکھ دیا ہے یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں کل ۱۲ - الفاظ ہیں۔لیکن اس کے مطالب اتنے وسیع ہیں کہ ان پر ایک مبسوط کتاب لکھی جاسکتی ہے۔میں ان میں سے آج صرف ایک مطلب کی