خطبات محمود (جلد 8) — Page 410
410 منافقین کا گروہ ہو تا آیا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم منافقین کی منافقت کو نکالنے کی کوشش نہ کریں۔اپنے فرائض اور ذمہ داری کو ادا نہ کرنا نفاق ہے۔پس اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان کے ادا کرنے کی کوشش کرو۔نفاق کئی قسم کا ہوتا ہے ایک نفاق تو پوشیدہ ہوتا ہے اور ایمان اس پر غالب ہوتا ہے لیکن دوسرا نفاق یہ ہوتا ہے کہ ایمان پوشیدہ ہوتا ہے اور نفاق غالب ہوتا ہے تمہیں ایسا خیال نہ کرنا چاہیئے کہ ہمارا ایمان غالب ہے تو اس نفاق کا علاج نہ کرو۔کیونکہ نفاق جو ایمان کے نیچے چھپا ہوا ہو۔آگ کے اس انگارے کی طرح ہوتا ہے جو راکھ کے نیچے دبا ہوا ہو۔جب بھی ہوا کا جھونکا آگیا۔وہ آگ ظاہر ہو جائے گی۔اگر تم اس منافقت کا علاج نہ کرو گے۔تو کسی وقت تمہارے ایمان کی راکھ بھی اڑ جائے گی۔اور نفاق ظاہر ہو جائے گا پس محض اس بات سے خوش نہ ہو کہ تمہارا ایمان نفاق پر غالب ہے۔اگر کسی کے دل میں ایسی بات ہے تو اس کو اصلاح کرنی چاہیئے۔دیکھو خدا نے ہم کو حق دیا ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم حق کو لے کر اٹھیں اور مغلوب ہو جاویں۔جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں۔وہ غور سے سنیں۔اور آج سے تہیہ کر لیں کہ ہم نے حق پھیلانا ہے۔اگر تم میں سے ہر ایک یہ ارادہ کرلے اور مقدور بھر اس کو پورا کرنے میں لگ جائے تو میں بچ سچ کہتا ہوں کہ ایک سال ختم نہیں ہو گا کہ تم دنیا میں تغیر عظیم پیدا کر دو گے۔مگر ساری بات ارادے اور ہمت کی ہے۔افسوس! کئی ہیں جو سنتے ہی نہیں۔اور کئی ہیں جو سنتے ہیں۔مگر یاد نہیں رکھتے پھر کئی ہیں جو سنتے ہیں۔اور یاد بھی رکھتے ہیں۔مگر کہتے ہیں کہ یہ دوسروں کے لئے کہا گیا ہے اور ہم اس سے مراد نہیں اور یہ کہہ کر اس کام کو دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔پھر کئی ہیں جو سنتے ہیں اور یاد بھی رکھتے ہیں۔اور اپنے آپ کے لئے ہی اس کو سمجھتے ہیں۔مگر ان کے نفوس میں ایسی بات ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے وہ اسے غلط قرار دے دیتے ہیں۔پھر کئی ہیں جو سنتے ہیں یاد رکھتے ہیں۔اپنے آپ کو ہی اس کا مصداق قرار دیتے ہیں اور ٹھیک بھی سمجھتے ہیں۔مگر صحیح طور پر عمل نہیں کرتے۔جو لوگ کہ سنتے ہیں۔یاد رکھتے ہیں۔پھر اپنے آپ کو اس کا مصداق بھی سمجھتے ہیں۔اور صحیح خیال کرتے ہوئے عمل کرتے ہیں۔وہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور ان کی قلت ہی عظیم الشان تغیر میں روک بن رہی ہے۔آخر ایک زمانہ آئے گا جب ایسے مخلصین کی قلت نہ ہو گی۔بلکہ کثرت ہو گی۔اور عظیم الشان ترقی ہو گی۔مگر میں کہتا ہوں تم کو اس ترقی سے کیا فائدہ جب تم ناکاموں کی صف میں داخل ہو چکے۔میں نے تمہیں بارہا اس بات سے آگاہ کر دیا ہے۔کیونکہ میرا فرض ہے کہ میں