خطبات محمود (جلد 8) — Page 361
361 کارنامہ نہ دکھا سکے گا۔کوئی سنجیدہ اور عقلمند انسان اس بات پر اعتراض نہیں کرتا اور نہیں کہتا کہ سپاہیوں سے کلرکوں کا کام لینا چاہئے یا کسی اور کام پر لگانا چاہئے۔بے فائدہ ان سے محنت و مشقت کیوں کرائی جاتی اور کیوں ان پر روپیہ صرف کیا جاتا ہے۔اگر کوئی بیوقوف یہ کہے۔تو اسے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ سپاہی خطرے کے مقابلہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔ان کو دلیر اور جری بنایا جاتا ہے۔انہیں تکلیف اور مشقت اٹھانے کا عادی بنایا جاتا ہے۔تاکہ آڑے وقت دشمن کا مقابلہ بہادری سے کر سکیں۔اور عین لڑائی کے وقت پیٹھ نہ دکھائیں۔اسی طرح روزوں کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف برداشت کرنے کی مشق کرے۔اور یہ صاف بات ہے کہ جو شخص بلا وجہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے۔وہ اگر حقیقی وجہ خطرے کی پیدا ہو جائے تو ضرور اپنی جان کو خطرے میں ڈال دے گا۔اور اس سے ہر گز دریغ نہ کرے گا۔پس اگر یہی فرض کر لیا جائے کہ روزہ صرف بھوکے اور پیاسے رہنے کا نام ہے اور اس میں یہ تکلیفیں انسان کو اٹھانی پڑتی ہیں۔تو یہ بطور مشق کے ہیں۔اور یہ تھوڑے عرصہ کے لئے ہوتی ہیں۔بہ نسبت اس تکلیف کے جبکہ مسلمانوں کو کسی بیرونی دشمن کی وجہ سے بھوکا پیاسا رہنا پڑے۔اگر وہ اس کے عادی نہ ہوں گے تو گھبرا جائیں گے۔پس جس طرح ایک سپاہی جس کو لڑائی کی پریکٹس نہ کرائی جائے اور لڑائی کے لئے ٹرینڈ نہ کیا جائے وہ لڑائی کو دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔اسی طرح اگر مسلمانوں کو روزوں کے ذریعے بھوکا اور پیاسا رہنے کی مشق نہ کرائی جائے تو وہ بھی گھبرا جائیں۔اگر یہ کہا جائے کہ سپاہی تو اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی اس لئے مشق کرتا ہے کہ اس کی حکومت کو دشمنوں کا خطرہ ہوتا ہے لیکن ایک مسلمان کے لئے کون سا خطرہ ہوتا ہے۔جس کے لئے وہ اپنی جان کو تکلیف میں ڈالے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک مسلمان کو اسلام کی حفاظت کے لئے روزے کے ذریعہ پریکٹس کرائی جاتی ہے۔پس روزہ اسلام کے فرضوں میں سے ایک اہم فرض ہے اور اس فرض کے پورا کرنے کے لئے ہمیں بچوں کو بھی شروع سے تیار کرنا چاہیئے تاکہ وہ بڑے ہو کر روزہ رکھنے سے دل نہ چرائیں۔بعض بچے جن کو روزے کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں ہم بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں وہ بڑے ہو کر روزے نہیں رکھتے۔لیکن وہ جو روزے کی حقیقت سے خوب واقف ہوتے ہیں کبھی ایسا نہیں کرتے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ جو روزہ نہیں رکھتے۔یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ چونکہ ہم کو تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے ہم روزہ نہیں رکھتے۔ایسے لوگوں کی مثال بعینہ