خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 343

343 ہے۔کہتا ہوں کہ قرآن کی ایک ایک آیت کے علوم و معارف تمام موجودہ مذہبی کتابوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔اور وہ اس کے مقابلہ میں ایک پھٹے ہوئے اور سڑے ہوئے چیتھڑے کے برابر بھی نہیں جو نجاست سے بھرا ہوا اور روڑی پر پڑا ہو اور میرا یہ کہنا صرف دعوئی ہی نہیں بلکہ دلائل بھی ساتھ ہیں تم قرآن کی ایک آیت کو لو اور تمام کتابوں کو مقابل پر رکھ کر دیکھو۔کس طرح وہ چمگادڑ سے بھی حقیر صورت میں چھپ جاتی ہیں۔ہم نے صرف قرآن کے لفظوں کو نہیں دیکھا۔بلکہ ہم خود اس کی محبت کی آگ میں داخل ہوئے اور وہ ہمارے وجود میں داخل ہو گئی۔ہمارے دلوں نے اس کی گرمی کو محسوس کیا اور لذت حاصل کی۔ہماری حالت اس شخص کی نہیں جو دیکھتا ہے کہ بادشاہ باغ کے اندر گیا ہے اور وہ باہر کھڑا اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ کب بادشاہ باہر نکلے تو میں اس کی دست بوسی کروں۔بلکہ ہم نے خود بادشاہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔اور اس کے ساتھ باغ میں داخل ہوئے۔اور روش روش پھرے اور پھول پھول کو دیکھا۔ہم رازی کو نہیں جانتے۔ہم ابن حیان کو نہیں مانتے۔بلکہ مسیح موعود کی صحبت سے ہم کو وہ علوم حاصل ہوئے کہ اگر یہ لوگ بھی ہمارے زمانہ میں ہوتے تو ہماری شاگردی کو اپنے لئے فخر سمجھتے۔خدا تعالٰی نے ہمیں وہ علوم عطا فرمائے ہیں کہ جن کی روشنی میں ہم نے دیکھ لیا کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے۔اور محمد رسول اللہ ایک زندہ رسول ہے۔لیکن ان لوگوں نے ہم میں سے کہلا کر یہ کہا کہ دنیا میں مسیح موعود اس لئے تشریف لائے تھے۔کہ قرآن کو منسوخ کریں اور بہائی تعلیم کو رواج دیں۔اس سے زیادہ ہماری ہتک اور کیا ہو سکتی ہے۔ایک شخص جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلحم مفتری تھے نعوذ باللہ اور مسیح موعود بھی نعوذ باللہ مفتری ہیں اگر وہ یہ کہے کہ قرآن منسوخ اور فلاں شخص محمد رسول اللہ سے افضل ہے۔تو اور بات ہے۔کیونکہ اس کی آنکھیں اس نور سے اندھی ہیں۔اور اس پر وہ صداقتیں مخفی ہیں۔لیکن جو شخص اسلام کو مانتا ہوا اور قرآن کو ہدایت تسلیم کرتا ہوا یہ کہے کہ مرزا صاحب قرآن کو موقوف کرنے کے لئے آئے تھے اور اسلام کو منسوخ اس سے زیادہ دھوکہ دینے والا اور کون ہو گا۔ایسا شخص ہم کو پاگل ترین انسان خیال کرتا ہے اور ہم سے وہ امید کرتا ہے جو پاگل خانوں کے پاگلوں سے بھی نہیں کی جاتی۔وہ ہم سے یہ منوانا چاہتا ہے کہ مرزا صاحب جن کی عمر کی ایک ایک گھڑی اور ایک ایک لمحہ قرآن کی خدمت اور محمد رسول اللہ صلعم کی عزت کے اظہار میں گذرا۔وہ نعوذ باللہ دل میں مانتے تھے کہ قرآن منسوخ ہے اور بھائی تعلیم اس سے افضل ہے۔وہ شخص ہم کو اندھا۔بہرہ