خطبات محمود (جلد 8) — Page 323
323 ہو گیا ہو۔جیسا کہ پاگل اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہے۔ایسا شخص اگر اپنے آپکو نبی کہتا ہے۔اور کہتا ہے کہ مجھ کو الہام ہوتا ہے تو ں جھوٹ نہیں کہہ رہا ہو تا بلکہ اس کی دماغی حالت درست نہیں۔اس لئے وہ کہتا ہے۔ایسی حالت میں اور دلائل کی ضرورت پڑے گی۔جو دعوئی کے بعد اس کے دعوی کو ثابت کریں گے۔غرض لوگ اس دلیل کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسے غلط طور پر پیش کرتے ہیں۔جیسا کہ محمد نصیب نے کہا کہ ارے قادیان والو مجھ پر کوئی اعتراض تو کرو۔حالانکہ مشہور ہے کہ خبث نفس نہ گردد بسالیا معلوم کہاں لوگوں نے اس پر غور کیا اور اس کو کامل روحانیت والا سمجھا۔چند دن رہنے سے کوئی شخص اس آیت کا مصداق ثابت نہیں ہو سکتا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ساری عمر کی پاکیزگی دکھائی جائے اس کے بعد غور کیا جائے گا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے کسی عقیدے کی وجہ سے تو نہیں کہتا جیسا کہ برہمو سماج والے اس بات کو جو دل میں پیدا ہو۔الہام کہتے ہیں یا پاگل تو نہیں۔یہ سب باتیں ہیں جو اس میں دیکھی جائے گی۔جھوٹا اس کو کہا جائے گا۔جس میں ان باتوں میں سے کوئی نہ پائی جائے۔اگر ان باتوں کو ملحوظ نہ رکھا جائے۔تو انسان دوسروں کو بھی صداقت نہیں منوا سکتا۔اور خود بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے اور یہ اس کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔پتھری نکالنے کے آلہ سے آنکھ کا کیٹرک نہیں نکل سکتا۔لوہار کو برے کی ضرورت ہو تو اس کا کام ہتھوڑے سے نہیں چل سکتا۔جو دلیل جتنا ثابت کرتی ہو۔اس سے اتنا ہی ثابت کرو۔اور اگلے حصہ کو اور دلیل سے مضبوط کرو تب فائدہ ہو سکتا ہے۔یہ دلیل میں نے جس رنگ اور جس طریق سے پیش کی ہے اس پر غور کرو۔اور دیکھو کہ کس طرح کس بات سے کیا اور کہاں تک ثابت ہوتا ہے۔غرض حضرت مسیح موعود نے جو دعویٰ کیا ہے۔اس کی تبلیغ ضروری ہے۔مگر اس کے لئے جن جن ولائل کی ضرورت ہے۔ان کے جاننے کے بغیر تبلیغ میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔احباب دلائل کو پیش کرنا اور صحیح طور پر پیش کرنا سیکھیں۔تاکہ ان کی باتوں کا اثر ہو اور لوگ حق کو قبول کریں۔اللہ تعالٰی توفیق دے کہ ہم حق کو سمجھیں اور اس کے دلائل معلوم کریں۔اور ان کے استعمال کرنے کی توفیق دے۔آمین الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۲۴ء)