خطبات محمود (جلد 8) — Page 291
291 50 50 فرموده ۱۸ جنوری ۱۹۲۴ء تقریر و تحریر میں مہارت پیدا کریں مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کرتے ہوئے ایک قانون مقرر کیا ہے۔اور وہ یہ کہ ہر ایک کام کے لئے ذرائع تجویز فرمائے ہیں۔گویا تمام کاموں کی مثال ایک گاؤں یا ایک مکان کی سی ہے کہ جن تک رسائی ان سڑکوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔جو وہاں پہنچنے کے لئے مقرر ہوں۔جب تک وہاں جانے کا خواہاں ان سڑکوں کو اختیار نہیں کرتا۔وہاں پہنچ نہیں سکتا۔بلکہ ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے۔انسان کی نشو و نما کے خدا نے کچھ قوانین مقرر فرمائے ہیں۔مثلاً انسان کے لئے غذا مقرر کی گئی ہے جس سے جسم کو طاقت ملتی ہے۔اگر انسان چاہتا ہے کہ اس کے جسم کو نشوونما حاصل ہو۔تو ضروری ہے کہ مناسب غذا استعمال کرے لیکن اگر غذا کی بجائے لاکھ روپیہ کا لباس پہن لے تو اس کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔مگر لاکھ روپیہ کی بجائے دو پیسہ کے چنے چبائے۔تو بھوک دور ہو جائے گی۔اس طرح اگر مقوی سے مقوی اور اعلیٰ سے اعلیٰ غذائیں کھائے اور خیال کرے کہ ان سے اس کا جسم ڈھنپ جائے گا۔تو یہ غلطی ہو گی۔ستر ڈھانپنے کے لئے قیمتی اور اعلیٰ غذا کی ضرورت نہیں۔اس لئے صرف ۲ گزیا اس سے بھی کم قیمت کا کپڑا ہو تو اس سے ستر ڈھنپ جائے گا۔اسی طرح عورت روٹی پکاتی ہے اگر وہ روٹی پکانے کی بجائے کوئی اور کام کرتی رہے۔یا کسی چیز پر کوئی رقم یا اپنا وقت صرف کر دے اور خیال کرے کہ اس کی روٹی پک گئی ہو گی تو یہ اس کی غلطی ہو گی اور ایسی غلطی کرنے والی عورت کوئی نہ ہو گی۔اسی طرح اگر ایک زمیندار بجائے ہل چلانے کے سارا دن ڈنڈ پیلتا رہے یا ٹوکریاں اٹھا کر ادھر سے ادھر پھینکتا رہے۔اور سمجھ لے کہ میں نے اتنی محنت کی ہے۔اس لئے چاہئے کہ میرا کھیت تیار ہو جائے اور مجھے اناج مل جائے۔تو اس کا یہ خیال خام ہو گا۔