خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 272

272 ہے کہ آیا فلاں شخص فلاں کام کر سکتا ہے یا نہیں اور جس کو میں کسی کام کا اہل سمجھتا ہوں خواہ وہ انگریزی خواں ہو یا عربی دان یا اور کوئی اسے کام پر مقرر کرتا ہوں کیونکہ میرے مد نظر کسی کی ڈگری یا سند نہیں ہوتی بلکہ کام کرنے کی اہلیت ہوتی ہے۔پس ہمارے پاس وہ رہ سکتا ہے جو یہ خیال کرے کہ میں احمدی ہوں اور وہ شخص کبھی اس جماعت میں نہیں ٹھر سکتا جو اپنے آپ کو انگریزی خواں یا عربی خواں ہونے کی حیثیت سے ہمارے پاس ٹھرنا چاہے۔کیونکہ یہ ایک جماعت یا ایک کمیونٹی ہے جس میں احمدیت کے نقطہ اتحاد پر چل کر کام کرتا ہے نہ کہ مولوی یا انگریزی خواں ہو کر۔پھر یہ کہ مدرسہ احمدیہ کے استاد مشورہ میں بلائے جاتے ہیں اور انگریزی مدرسہ کے استاد نہیں بلائے جاتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی خوانوں کی تعداد زیادہ ہے ان میں سے زیادہ لائق آدمی اعلیٰ کاموں کے لئے ہم نے چن لئے ہیں۔لیکن عربی خواں تھوڑے ہیں اور ان میں سے لائق آدمیوں کو ہم نے مدرسہ میں لگایا ہوا ہے کیونکہ اور آدمی مدرسہ کا کام چلانے کے لئے ہمارے پاس نہیں۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ ان کو معمولی مدرس کی حیثیت سے بلایا جاتا ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ سلسلہ کے عالم ہیں باوجود علم و فضل کے یہ ان کی قربانی ہے کہ وہ مدرسہ کا کام چلا رہے ہیں ورنہ اصل ان کا یہ کام نہیں اگر ان کی جگہ ہمیں عربی خواں کافی تعداد میں مل جائیں تو ان کو ہمیں اور کاموں پر لگانے کی ضرورت ہے۔پھر خلیفہ کے متعلق یہ کہنا کہ اس کا بھی ان باتوں میں دخل ہے۔اور وہ عربی خوانوں کی رعائت کرتا ہے کیونکہ خلافت کے جھگڑے میں عربی خواں ہی اس کی تائید میں کھڑے تھے۔یہ ایسا خیال ہے کہ اس کے رکھنے والا خلیفہ کی بیعت میں نہیں رہ سکتا۔کیونکہ اس کا اس سے یہ مطلب ہے کہ خلیفہ اتنا بے وقوف ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں کہ خلافت کیا ہے اور خلیفہ کون بناتا ہے۔خلافت کے جھگڑے کے وقت تہ اگر کچھ انگریزی خواں مخالفت کے لئے کھڑے ہو ئے تھے تو کچھ انگریزی خواں تائید میں بھی کھڑے تھے۔جیسے مولوی شیر علی صاحب ذوالفقار علی خان صاحب وغیرہ۔پھر اگر بعض مولوی تائید میں تھے تو بعض مخالف بھی تھے۔جیسے مولوی غلام حسن صاحب پشاوری۔پھر میں کہتا ہوں کسی کو خلیفہ ہونے سے فائدہ کیا ہے۔سوائے اس کے کہ لوگوں کے مصائب اور ان کی اصلاح کے لئے غم کھاتا اور کڑھتا رہے۔کہ کس طرح جماعت کا جہاز پار ہو جائے۔خلافت اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ایک مردم کش چیز ہے وہ کسی کے قتل کے لئے ایک نہایت سریع التاثیر آلہ ہے۔جو مضبوط سے مضبوط اور جوان سے جوان آدمی کو تھوڑے عرصہ میں مار دیتا ہے۔اور یہ ایک آزاد آدمی کو غلام بنا دیتی ہے۔اور گھن کی طرح اس کو کھا جاتی ہے۔باقی رہے خدا کے فضل اور احسانات وہ صرف خلافت کے ساتھ وابستہ نہیں۔کیا نبوت براہ راست نہیں ملتی۔بے شک روحانی