خطبات محمود (جلد 8) — Page 250
250 نازل کرتا ہے۔ایک زمانہ میں تلوار چلائی جاتی ہے۔اور ایک زمانہ میں نیام میں رکھ دی جاتی ہے۔سلسلہ چلتا چلا جائے گا جب تک وعدہ الہی پورا نہ ہو جائے۔ے میں نے جو آج یہ خطبہ پڑھا ہے یہ ایک رویا کی بنا پر پڑھا ہے جو میں نے پرسوں دیکھی۔جس معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر کوئی اور عذاب آنے والا ہے اور قریب کے زمانے میں آنے والا ہے۔میں نے دو نظارے دیکھے ہیں۔اول میں نے ایک مریض کو دیکھا۔جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ طاعون کا مریض ہے۔پھر ایسا معلوم ہوا کہ ہم کچھ آدمی ایک گلی میں سے گزر رہے ہیں۔ہمیں ایک شخص کہتا ہے۔پرے ہٹ جاؤ یہاں سے بھینسیں گزرنے والی ہیں۔ایسا معلوم ہوا کہ گویا گلی کے پاس ایک کھلا میدان ہے جس کے ارد گرد احاطہ کے طور پر دیوار ہے اور ایک طرف دروازہ بھی ہے۔جس کو کواڑ نہیں ہیں۔اور میں اور میرے ساتھی اس دروازے میں داخل ہو گئے ہیں۔ہم نے گلی میں سے گذرنے والی بھینسوں کو دیکھا کہ وہ مارنے والی بھینسوں کی طرح گردن اٹھا کر دوڑتی چلی آتی ہیں۔میں نے انتظار کیا کہ وہ گزر جائیں لیکن اتنے میں ہمیں بتایا گیا کہ وہ اس گلی سے نہیں دوسری سے گزر گئیں۔تعبیر الرویا میں بھینس کی تعبیر وبا یا بیماری ہوتی ہے اور طاعون سے مراد بھی عام بیماری یا کوئی وبا ہوتی ہے۔اور طاعون بھی ہو سکتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب اس رنگ میں کوئی اور نشان ظاہر ہو گا۔خدا تعالی کی طرف سے مختلف رنگ کے نشان آیا کرتے ہیں۔کبھی سیاسی اور کبھی مالی اور کبھی کسی اور رنگ میں تاکہ لوگ ایک ہی قسم کے عذاب کے عادی نہ ہو جائیں۔اس وجہ سے دو امور کی طرف اپنی جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اول تو یہ کہ ان ایام میں بہت زیادہ استغفار اور توبہ کی ضرورت ہے۔چاہئیے کہ ہمارے احباب خصوصیت سے اس میں لگ جائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے متعلقین کو اس قسم کی موت سے بچائے۔موت سب کو آتی ہے۔حتی کہ نبی بھی نہ بچے اور تو اور نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بروز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جن کے ذریعہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو پہچانا وہ بھی نہ بچے۔پس جب وہ بھی نہ بچے جن کی دنیا کو اتنی ضرورت تھی۔اور کون ہے جو موت سے بیچ جائے۔مگر موتوں کی بھی قسمیں ہیں۔بعض موتیں شہادت بھی ہوتی ہیں۔مگر بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں اور امر حق مشتبہ ہو جاتا ہے۔جو وباء مخالفین کے لئے آئی ہو۔اگر تم میں سے یا تمہارے متعلقین میں سے کوئی اس میں مبتلا ہو جائے تو لوگ اعتراض کریں گے کہ یہ کیسا عذاب ہے کہ ماننے والوں پر بھی آتا ہے۔گو ان کا یہ اعتراض غلط ہو گا۔مگر کہنے والے کو کون روک سکتا ہے۔خدا کی ذات تو غنی ہے اگر کوئی انسان عفو طلب نہیں کرتا تو خدا کو اس کی پروا نہیں ہو