خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 235

235 بات کی خواہش کرنا ہے۔پس پیشتر اس کے کہ وہ کسی اور مشغلہ کا فیصلہ کر لیں ہماری جماعت کو چاہئیے کہ اپنے دوستوں میں جلسہ میں شمولیت کے لئے تحریک کریں۔کیونکہ جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر چکیں تو پھر فیصلہ کو منسوخ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔پہلے تو میں ان لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جن کے ایسے لوگوں سے تعلقات ہیں جو صداقت پسند اور حق جو ہیں تحریک شروع کر دیں۔بہت سے لوگ ہیں جو حجاب کی وجہ سے ہمارے سلسلہ سے پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔ان کے لئے یہی دن حجاب کے دور ہونے کا ذریعہ ہیں کیونکہ جب ایک رو پیدا ہو جاتی ہے تو ان کو دیکھ کر اور لوگوں میں بھی وہ رو جاری ہو جاتی ہے۔جب وہ چاروں طرف سے لوگوں کو آتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے اندر بھی خواہش پیدا ہوگی۔عام طور پر لوگوں کا ایک جگہ پر جانا بھی ایک دل چسپی پیدا کر دیتا ہے۔انسان کی یہ عادت ہے کہ جس کام کو بہت سے لوگوں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے اس کے دل میں اس کے لئے ایک شوق پیدا ہو جاتا ہے چونکہ سینکڑوں ہزاروں لوگ چاروں طرف سے ان دنوں آرہے ہوتے ہیں۔اس لئے ان کو جو دیکھتا ہے اس کے دل میں ا بھی تحریک پیدا ہوتی ہے۔پھر جلسہ کا ایک خاص طور پر اثر ہوتا ہے۔دیکھو آریہ سماج کے مندروں میں کوئی غیر قوم کا مشخص نہیں جاتا۔لیکن ان کے جلسہ پر بہت سے مذاہب کے لوگ جمع ہو جاتے ہیں کیونکہ انسان کی طبیعت عجوبہ پسند بھی ہے۔اسی طرح یہاں بھی جلسہ کے دنوں میں لوگ خیال کرتے ہیں معلوم نہیں وہاں کیا ہوتا ہے۔چلو چل کر دیکھیں تو سہی کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔پھر عام طور پر لوگ یہ بھی نہیں پسند کرتے کہ وہ اکیلے یہاں آئیں۔ان کے دلوں میں حجاب ہوتا ہے کہ اگر کسی نے پوچھا تو کیا کہیں گے۔لیکن جب جلسہ کے دن ہوں اور لوگ ان دنوں میں کثرت سے آرہے ہوں تو ان کو کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح اور لوگ جلسہ دیکھنے کے لئے جا رہے ہیں اس طرح ہم بھی جا رہے ہیں۔جلسہ دیکھنے میں تو کوئی حرج نہیں آخر ہم اور جلسے بھی تو دیکھتے ہیں۔در حقیقت ہمارے کام کی وسعت چاہتی ہے کہ ہماری عام ہمدردی ہو اور عام لوگوں کی طرف ہماری توجہ ہو کیونکہ یہ ہماری تبلیغ کے لئے نہایت مفید چیز ہے۔اس لئے میں تو کہتا ہوں اگر کوئی دشمن سے دشمن بھی قادیان میں آئے اور دشمن ہی چلا جائے تب بھی ہماری ہی فتح ہوگی کیونکہ سلسلہ کی کچھ نہ کچھ عظمت اس کے دل میں ضرور پیدا ہو جائے گی۔اور بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ باہر ایک مولوی نے ہماری مخالفت میں ہمارے سلسلہ کے متعلق جب غلط بیانیاں کیں تو ایک غیر احمدی نے ہی جو عقائد کے لحاظ سے ہمارا مخالف تھا مگر کسی موقع پر یہاں آیا تھا اس مولوی کی تردید کردی اور کہا کہ نہیں میں خود قادیان گیا ہوں۔یہ لوگ بڑے دین دار ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ میں احمدی نہیں ہوں